تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 499
شیطان نے کیا تھا اور ان کی باتیں بھی بظاہر <mark>ایسی</mark> ہوتی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دھوکا کھا جاتے کہ بڑے اچھے مشورے دے رہے ہیں <mark>اس</mark>ی طرح شیطان کی بات پر آدم نے یقین کر لیا صرف فرق یہ ہے کہ سیّد وُلدِ آدم چونکہ آخری نبی تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان شیطانوں کے حملہ سے اپنے الہام سے بروقت خبردار کر دیا اور وہ <mark>اس</mark>لام کو عارضی نقصان بھی نہ پہنچا سکے مگر آدم کا شیطان یا اپنے وقت کا عبداللہ بن ابی ابن سلول عارضی طور پر آدم کو جنت سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔شیطان کا یہ کہنا کہ میں آپ کا مخلص ہوں <mark>اس</mark>ی لئے تھا کہ آدم علیہ السلام کو یقین دلائے کہ ابلیس اور <mark>اس</mark> کی ذرّیت سے بچنے کا حکم بیشک آپ کو ملا تھا میں تو اب آپ کا مخلص ہوں <mark>اس</mark> لئے اب میں ابلیس کی ذرّیت سے نہیں رہا بلکہ آپ کی ذرّیت سے ہو گیا ہوں۔<mark>اس</mark> کی ان چکنی چپڑی باتوں سے آدم علیہ السلام کو دھوکا لگ گیا اور انہوں نے سمجھا کہ یہ سچ تو کہتا ہے جب یہ ہمارا مخلص ہو گیا ہے تو اب <mark>اس</mark> سے بچنے کی کیا ضرورت ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خبردار کر دیا کہ منہ سے یہ منافق کس قدر ہی اخلاص کے دعوے کریں مگر ھُمُ الْعُدُوُّ فَاحْذَرْ ھُمْ اصل دشمن یہی ہیں پس تو ان سے بچ۔<mark>اس</mark> سوال کا جواب کہ حضرت آدم علیہ السلام شیطان کے دھوکے میں کیونکر آئے اب سوال کا یہ دوسرا پہلو حل کرنے کے قابل رہ جاتا ہے کہ شیطان چونکہ ابلیس کے علاوہ اور وجود تھا <mark>اس</mark> لئے <mark>اس</mark> نے اپنے مومن اور مخلص ہونے کا دھوکا دے کر حضرت آدم ؑ کو غافل کر دیا مگر وہ بات جو <mark>اس</mark> نے کی ہو گی وہ تو خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہی ہو گی پھر <mark>اس</mark> بات کے ماننے کے لئے آدم علیہ السلام کس طرح تیار ہو گئے؟ <mark>اس</mark> کا جواب یہ ہے کہ جس طرح آدمی ایک غلط جُبّہ پہن کر دوسرے کو دھوکا دے دیتا ہے <mark>اس</mark>ی طرح وہ باریک امور میں غلط امور کو غلط رنگ دے کر اچھا بنا کر بھی دکھا دیتا ہے۔دیکھو <mark>اس</mark>ی سورۃ کے شروع میں اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(البقرة :۱۲) یعنی جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ کفار سے میل جول رکھ کر فساد پیدا نہ کرو۔تو وہ کہتے ہیں کہ واہ ہم پر فساد کا الزام لگاتے ہو حالانکہ ہم ہی اصلاح کی سچی کوشش کرنے والے ہیں۔ہمارا کفار سے ملنا تو<mark>اس</mark> غرض سے ہے کہ ان جوشوں کو دبائیں اور مسلمانوں کی طرف ان کو مائل کریں۔<mark>اس</mark> جواب میں انہوں نے اپنے برُے فعل کی اچھی توجیہ کر دی ہے اور <mark>اس</mark> طرح مسلمانوں کو بھی رغبت دلائی ہے کہ تم بھی <mark>اس</mark>ی طرح کرو تاکہ فساد جاتا رہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے بھی یہی طریق اختیار کیا تھا چنانچہ فرماتا ہے شیطان نے آدم علیہ السلام