تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 490
ضرورتوں کے لئے لوگوں نے وہاں جا کر کرنا کیا ہے؟ وہاں تو وہی لوگ جا کر بسنے کی خواہش کریںگے جن کو اس جگہ سے مذہبی لگائو ہو اور وہ لوگ خواہ کسی قوم کے ہوں اس جگہ جا سکتے ہیں۔شاید اللہ تعالیٰ نے اپنی اوّل اور آخر مسجد کے لئے اس وادی غیر ذِی زَرعٍ کو چنا ہی اس لئے تھا تاکہ اس کے مذہبی نظام کے قیام کے لئے <mark>دوسرے</mark> مذاہب کو اس سے روکا جائے تو کسی کو یہ اعتراض نہ ہو کہ اس طرح ہمیں دنیوی فوائد اور ثمرات سے محروم کر دیا گیا ہے ورنہ ہو سکتا تھا کہ کعبہ کو کسی سر سبز جگہ بنایا جاتا مگر ایسا ہوتا تو <mark>دوسرے</mark> مذاہب کے لوگ دنیوی فوائد سے محروم رہ جاتے یا پھر اسے دین کے لئے محفوظ قلعہ نہ بنایا جا سکتا۔وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔اور اس شجرہ کے قریب نہ جائو ورنہ تم ظالم ہو جائو گے۔شجرہ ممنوعہ کے متعلق پہلے مفسرین کا خیال اور اس کا ردّ یہ شجرہ جس کے پاس ج<mark>ان</mark>ے سے آدم کو روکا گیا تھا کیا تھا؟ یہ سوال بڑا ہی محلِّ اختلاف بنا رہا ہے <mark>بعض</mark> نے اسے عورت کہا ہے <mark>بعض</mark> نے گندم کا د<mark>ان</mark>ہ اور <mark>بعض</mark> نے <mark>ان</mark>گور لیکن یہ سب مع<mark>ان</mark>ی خلافِ قرآن ہیں۔عورت اس سے مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ آدم علیہ السلام کو بیوی سمیت اس میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے گندم بھی اس سے مراد نہیں ہو سکتی اور نہ <mark>ان</mark>گور۔کہ یہ دونوں اشیاء حلال ہیں اور اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا اس میں سے اپنی غذا با افراط حاصل کرو۔بائبل کا شجرۂ ممنوعہ کو شجرۂ علم قرار دینا اور اس کا بطل<mark>ان</mark> بائبل میں اسے شجرۂ علم قرار دیا گیا ہے لکھا ہے ’’اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دے کر کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا کر لیکن نیک و بد کی پہچ<mark>ان</mark> کے درخت سے نہ کھ<mark>ان</mark>ا کیونکہ جس دن تو اس سے کھائے گا ضرور مرے گا۔‘‘ (پیدائش باب ۲ آیت ۱۶ و ۱۷) بائبل کا یہ بی<mark>ان</mark> بالبداہت باطل ہے کیونکہ نیک و بد کی پہچ<mark>ان</mark> ہی تو <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو <mark>دوسرے</mark> حیو<mark>ان</mark>وں سے افضل بناتی ہے ورنہ بیل، گھوڑے، گدھے اور <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> میں فرق ہی کیا ہے اور جبکہ خود بائبل کہتی ہے کہ’’ خدا تعالیٰ نے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کو اپنی صورت پر اور اپنی م<mark>ان</mark>ند بنایا‘‘ (پیدائش باب ۱ آیت ۲۶) تو اس کے معنے ہی یہ ہیں کہ اس میں نیک و بد کی پہچ<mark>ان</mark> رکھی اور علم اور عرف<mark>ان</mark> کا مادہ رکھا ورنہ خدا کی صورت اور اس کی م<mark>ان</mark>ند کے اور کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ اور جب آدم کو خدا کی صورت اور اس کی م<mark>ان</mark>ند بنایا گیا تھا تو وہ تو اپنی پیدائش کے ساتھ ہی نیک و بد کو پہچ<mark>ان</mark>نے والا تھا اس <mark>غرض</mark> کے لئے اسے کسی درخت کا پھل کھ<mark>ان</mark>ے کی کیا ضرورت تھی؟ اپنی م<mark>ان</mark>ند پیدا کر کے اسے نیک و بد کی پہچ<mark>ان</mark> کا درخت کھ<mark>ان</mark>ے سے روکنے کے تو یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے خود اپنا کام باطل کیا اور بچوں کا سا کھیل کھیلا جو پہلے ایک گھروندا بناتے ہیں اور پھر اسے توڑ دیتے ہیں۔شجرہ کا لفظ استعارۃً استعمال ہونے کے چار ثبوت اب سوال یہ ہے کہ اگر اس درخت سے مراد نہ تو گندم