تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 484

سے ملوث کر دے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں <mark>اس</mark> کے یہ معنی ہیں کہ انسان اپنی پیدائش کے لحاظ سے ملائکہ کی تحریکوں کو قبول کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔پیدائش کے وقت <mark>اس</mark> میںابلیس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا لیکن بعد میں وہ خود ابلیس کو دعوت دے کر ہلاک ہو جاتا ہے۔احادیث نبی کریمؐ میں بھی <mark>اس</mark> مضمون کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْیُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہ(بخاری کتاب الجنائز باب ماقیل فی اولاد المشرکین) یعنی ہر بچہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے مادہ کے ساتھ پیدا کیا جاتا ہے <mark>اس</mark> کے بعد <mark>اس</mark> کے ماں باپ <mark>اس</mark>ے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی بچہ کی فطرت میں خرابی پیدا نہیں کی۔یہ خرابی بعد میں پیدا ہوتی ہے گویا اصل تعلق بچہ کا ملائکہ سے ہوتا ہے۔ابلیس سے <mark>اس</mark> کا تعلق خارجی <mark>اس</mark>باب سے پیدا ہوتا ہے۔<mark>اس</mark> عقیدہ کی تردید کہ ابلیس سفلی زندگی کا مظہر ہے جس میں سے گزر کر انسان کو روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے بعض حال کے مفسرین نے <mark>اس</mark> آیت میں ابلیس کی ضرورت یہ بتائی ہے کہ وہ سفلی زندگی کا مظہر ہے جس میں سے گزر کر انسان کوروحانی ترقی حاصل ہوتی ہے مگر یہ تشریح درست نہیں۔کیونکہ اگر سفلی زندگی سے مراد جسمانی خواہشات کا پورا کرنا ہے جیسے کھانا، پینا،پہننا یا ش<mark>ہوا</mark>ت بہ حدِّ اعتدال پورا کرنا تو <mark>اس</mark>ے ابلیس سے رکھنے والی زندگی نہیں کہا جا سکتا۔ان تقاضوں کو اللہ تعالیٰ کے انبیاء بھی پورا کرتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا (المومنون :۵۲) اے رسولو! پاک چیزیں کھائو اور نیک اعمال کرو یعنی طیبات کا <mark>اس</mark>تعمال نیک کاموں کی توفیق دیتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔لَارَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ (مسند احمد بن حنبل مسند عائشةؓ) <mark>اس</mark>لام میں رہبانیت نہیں۔یعنی <mark>اس</mark>لام طیّب اشیاء کے <mark>اس</mark>تعمال سے خواہ کھانے پینے کے متعلق ہوں یا پہننے اوڑھنے کے متعلق ہوں یا رہنے سہنے کے متعلق ہوں منع نہیں کرتا بلکہ ضرورت کے مطابق ان اشیاء کے <mark>اس</mark>تعمال نہ کرنے کو گنہ قرار دیتا ہے پس جہاں تک طیبات کو حدِّ اعتدال کے اندر <mark>اس</mark>تعمال کرنے کا سوال ہے <mark>اس</mark>لام <mark>اس</mark>ے دین کا حصہ قرار دیتا ہے اور ان کے ترک کو گنہ گردانتا ہے۔اب اگر <mark>اس</mark> فعل کو ابلیس کے متعلق قرار دیا جائے اور سفلی زندگی کہا جائے تو <mark>اس</mark> کے یہ معنے ہوں گے کہ گویا خدا تعالیٰ تمام انبیاء اور مومنوں کو ابلیس اور شیطان سے تعلق پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے۔اگر کہا جائے کہ سفلی زندگی سے مراد حدِّ اعتدال سے زیادہ ان اشیاء کا <mark>اس</mark>تعمال ہے تو <mark>اس</mark> صورت میں بھی مذکورہ بالا خیال غلط قرار پاتا ہے کیونکہ <mark>اس</mark> صورت میں سفلی زندگی کو اعلیٰ زندگی کے حصول کے لئے ضروری قرار دینے کے یہ