تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 454
نام ہنڈیا سکھایا یعنی زبان سکھائی (دُ رِّمنثور زیر آیت ھٰذا) بعض نے <mark>اس</mark> پر یہ زیادتی کی ہے کہ تمام زبانیں سکھائیں (فتح البیان زیر آیت ھٰذا) یہ معنے بالکل خلافِ عقل و نقل ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ آدم کو <mark>اس</mark> کی اولاد کے نام بتائے۔(دُ رِّمنثور زیر آیت ھٰذا) <mark>اس</mark>ماء سکھانے سے مراد صفات الٰہیہ کا علم <mark>اس</mark> آیت میں اللہ تعالیٰ نے ظاہر الفاظ میں نہیں فرمایا کہ کیا نام سکھائے؟ <mark>اس</mark> وجہ سے اختلاف <mark>ہوا</mark> ہے لیکن اگر ہم قرآن کریم کو غور سے دیکھیں تو آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اَسْمَاء سے کیا مراد ہے۔<mark>اس</mark> میں کوئی شک نہیں کہ انسانوں کے متمدن ہونے کی صورت میں ان کے لئے ایک زبان کی ضرورت تھی اور اللہ تعالیٰ نے ضرور آدم کو زبان کا علم سکھایا ہو گا لیکن قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے ایک خاص <mark>اس</mark>ماء بھی ہیں جن کا سیکھنا انسان کے دین اور اخلاق کی تکمیل کے لئے ضروری ہے اور جن کو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں سکھا سکتا۔پس <mark>اس</mark> جگہ جن <mark>اس</mark>ماء کے سکھانے کا ذکر ہے ان سے وہ <mark>اس</mark>ماء ضرور مراد ہیں اور ان <mark>اس</mark>ماء کا قرآن کریم کی <mark>اس</mark> آیت میں ذکر ہے۔وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْۤ اَسْمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ(الاعراف :۱۸۱) یعنی اللہ تعالیٰ تمام نیک ناموں یعنی صفات کا مالک ہے۔پس اللہ کو ان ناموںسے یاد کیا کرو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو <mark>اس</mark> کے ناموں یعنی صفات میں غلط ر<mark>اس</mark>تہ کو اختیار کرتے ہیں اور شک اور جھگڑے سے کام لیتے ہیں وہ اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔<mark>اس</mark> آیت سے ظاہر ہے کہ (۱) اللہ تعالیٰ کے <mark>اس</mark>ماء یعنی صفات کا صحیح علم حاصل کئے ب<mark>غیر</mark>انسان اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل نہیں کر سکتا اور <mark>اس</mark> کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا (۲) ان <mark>اس</mark>ماء یعنی صفات کا صحیح علم <mark>اس</mark>ی کے سکھانے سے آ سکتا ہے۔جو لوگ اپنے خیال اور عقل سے کام لیتے ہیں وہ ضرور غلطی کرتے ہیں اور <mark>اس</mark>ماء الٰہیہ کا صحیح علم حاصل نہیں کر سکتے۔پس آدم چونکہ مذہب کے قیام اور اللہ تعالیٰ سے مخلوق کے وصال کی غرض سے مبعوث ہوئے تھے ضروری تھا کہ انہیں <mark>اس</mark>مائِ الٰہیہ سکھائے جاتے تا ان کی امت ان ناموں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو شناخت کرتی اور <mark>اس</mark> سے تعلق پیدا کرتی اور اگر وہ نام نہ سکھائے جاتے تو <mark>اس</mark> کے ُ ملحد اور بے دین ہونے کا خطرہ تھا۔جب یہ ثابت ہو گیا کہ <mark>اس</mark>ماء الٰہیہ کا آدم کو سکھانا ضروری تھا تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جن <mark>اس</mark>ماء کے سکھانے کا <mark>اس</mark> آیت میں ذکر ہے ان میں <mark>اس</mark>ماء الٰہیہ ضرور شامل تھے بلکہ مذہب کی ضرورت کو مدِّ<mark>نظر</mark> رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہی نام اصل میں مقصود تھے اور ان کے سوا جو نام بھی ہوں وہ ان کے تابع ہوں گے۔سابق مفسرین میں سے مظہری نے <mark>اس</mark>ماء کے معنی <mark>اس</mark>مائِ الٰہیہ کے ہی کئے ہیں۔(فتح البیان زیر آیت ھٰذا) مصنف فتح البیان نے <mark>اس</mark>ے بے دلیل قرار دیا