تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 448

اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو اپنے امور کے لئے واسطہ بن<mark>ان</mark>ا اس کی قدرت کے منافی نہیں بہرحال دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت بھی تسلیم کی جائے فرشتوں کا وجود محلِ اعتراض نہیں ٹھہرتا کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کسی وقت کوئی کام کرتا تھا۔تو سوال یہ ہے کہ اس وقت کوئی واسطہ وہ استعمال کرتا تھا یا نہیں؟ یعنی کیا ابتدائے آفرینش میں دنیا کے وجود میں آنے کا ذریعہ کوئی طبعی قواعد تھے یا جادو کے وہمی کرشموں کی طرح ہر تغیر بغیر کسی ق<mark>ان</mark>ون یا ذریعہ کے ہو جاتا تھا؟ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس عالم کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ اس کے <mark>ان</mark>د رکا ہر تغیر کسی قاعدہ کے ماتحت معلوم ہوتا ہے تو م<mark>ان</mark>نا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو وجود میں ل<mark>ان</mark>ے کے لئے <mark>بعض</mark> و سائط بھی پیدا کئے تھے اور <mark>بعض</mark> ق<mark>ان</mark>ون جاری کئے تھے جن کے ماتحت یہ عالم پیدا ہوا اور اس نے موجودہ صورت اختیار کی۔اگر یہ تسلیم کیا جائے اور اس کے تسلیم کرنے کے بغیر چارہ نہیں تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ فرشتوں کے وجود پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیونکہ جس طرح ایک وسیلہ اور واسطہ کا اختیار کرناخدا تعالیٰ کی قدرت کے منافی نہیں اسی طرح <mark>دوسرے</mark> وسیلے یا واسطے کا استعمال کرنا بھی اس کی قدرت کے منافی نہیں۔اسی طرح اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ خدا تعالیٰ اب بھی نظامِ عالم کے چل<mark>ان</mark>ے میں کوئی دخل رکھتا ہے تب بھی فرشتوں کے وجود پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر خدا تعالیٰ بچہ پیدا کرنے کے لئے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی نطفہ سے کام لیتا ہے۔حیو<mark>ان</mark> کی پیاس بجھ<mark>ان</mark>ے کے لئے پ<mark>ان</mark>ی سے کام لیتا ہے۔دنیا کو روشن کرنے کے لئے سورج سے کام لیتا ہے اور اس کی قدرت پر کوئی حرف نہیں آتا۔تو نظامِ عالم کے جاری رکھنے کے لئے اگر اس نے فرشتوں کو بھی واسطہ بنایا ہو تو اس کی قدرت پر کیوں حرف آنے لگا۔اصل بات جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور ق<mark>ان</mark>ونِ قدرت اس کی تصدیق کرتا ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت ِ کاملہ سے کارخ<mark>ان</mark>ہ عالم کو ایک وسیع ق<mark>ان</mark>ون کے ماتحت چلایا ہے قرآن کریم فرماتا ہے۔رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۔وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا (النازعات :۲۹،۳۰) یعنی آسم<mark>ان</mark> کو دیکھو کہ ہم نے اس کی بلندی کو خوب بلند بنایا ہے اور پھر اسے تمام ضروری قوتیں اور کمالات دیئے ہیں اور اس کی قوتوں کو دو طرح کا بنایا ہے ایک مخفی جورات کی طرح پوشیدہ ہیں اور ایک ظاہر کہ دوپہر کی طرح روشن ہیں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ نظامِ آسم<mark>ان</mark>ی ایک کامل ق<mark>ان</mark>ون پر مبنی ہے جس میں سے کچھ مخفی ہے اور غور اور فکر اور تدبر سے اس کا علم ہوتا ہے اور کچھ ظاہر و روشن ہے کہ ظاہری آنکھ بھی اس کا مطالعہ کر سکتی ہے یہ دونوں قسم کے ق<mark>ان</mark>ون۔ق<mark>ان</mark>ونِ قدرت کا مطالعہ کرنے والوں پر روشن ہیں۔سورج اور چ<mark>ان</mark>د کو ہی لے لو کچھ اثرات <mark>ان</mark> کے ایسے واضح ہیں کہ جاہل اور <mark>ان</mark> پڑھ لوگ بھی <mark>ان</mark> سے