تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 418
سرداری کریں اور خدا نے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کواپنی صورت پر پیدا کیا۔خدا کی صورت پر اُس کو پیدا کیا نرَو ناَری اُن کو پیدا کیا۔اور خدا نے <mark>ان</mark>ہیں برکت دی اور خدا نے <mark>ان</mark>ہیں کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو… اور خداوند خدا نے عدَن میں پورب کی طرف ایک باغ لگایا اور آدم جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا…… اور خداوند خدا نے کہا کہ اچھا نہیں کہ آدم اکیلا رہے میں اس کے لئے ایک ساتھی اس کی م<mark>ان</mark>ند بنائوں گا…… اور خداوند خدا نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلہ گوشت بھر دیا اور خداوند خدا نے اس پسلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کے آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا کہ اب یہ <mark>میری</mark> ہڈیوں میں سے ایک ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اس سبب سے وہ ناری کہلائے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔(پیدائش باب ۱ ، ۲) ہندوؤں کی کتب میں پیدائش <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی کی حقیقت کا بی<mark>ان</mark> ہندوئوں نے پیدائش <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی کی حقیقت اس طرح بی<mark>ان</mark> کی ہے۔رگوید میں لکھا ہے: ’’کون یقیناً ج<mark>ان</mark>تا ہے اور کون بی<mark>ان</mark> کر سکتا ہے کہ یہ کائنات کہاں سے آپیدا ہوئی اور کس طرح اس کی تخلیق ہوئی کیونکہ دیوتا اس کے بعد کے ہیں پھر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ کہاں سے نمودار ہوئی۔یہ خلقت کہاں سے آ موجود ہوئی اے پیارے۔آکاش میں جو اُس کا منتظم ہے وہ بھی اس کو ج<mark>ان</mark>تا ہے یا وہ بھی نہیں ج<mark>ان</mark>تا۔‘‘ (رگوید منڈل نمبر ۱۰ سوکت نمبر ۱۲۹) اس عدم علم کے اظہار کے بعد رگوید نے خود ہی پیدائش عالم اور پیدائش <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی کی یوں تشریح کی ہے ’’اس َیگِیْہ سے کہ جس میں سب نے ہوَن کیا دہی اور گھی پیدا ہوا اور <mark>ان</mark> حیو<mark>ان</mark>وں کو پیدا کیا جو ہوا کے سہارے ہیں اور جنگل اور آبادی میں رہنے والے ہیں۔اس َیگِیْہ سے کہ جس میں سب نے ہوَن کیا رچا (رِگوید) سام وید چَھنْد (بحر) اور یجروید پیدا ہوئے جب وَراٹ پرش کو تقسیم کیا گیا تو کتنی طرح سے اس کا خیال کیا گیا کون اس کا منہ قرار دیا گیا۔کس سے بازو کس سے ر<mark>ان</mark>یں اور کس سے پائوں۔اس کا منہ کیا ہے بازو کون ہیں ر<mark>ان</mark>یں کیا ہیں اور پائوں کون؟ براہمن اس کے مُنہ سے پیدا ہوا کھشتری اس کے بازو سے اور شودر اس کے پائوں سے مَنْ سے چ<mark>ان</mark>د پیدا ہوا۔آنکھ سے سورج پیدا ہوا ُمنہ سے اِندر اور اَگنی اور پرَُ<mark>ان</mark> سے ہوا پیدا ہوئی (رگوید منڈل نمبر ۱۰ سوکت نمبر ۹۰) ہندوئوں کی ایک معتبر کتاب ہے جس کا نام بَرِہْدَا رَنّیِکْ اُپنشد ہے اور ستاتنیوں اور آریوں دونوں میں عزت کی