تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 408

کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے اس وقت کے ظاہری تقویٰ شعار لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے پھر جو تقویٰ کے اصلی مقام پر ہوتے ہیں وہ تو اپنی غلطی کو سمجھ جاتے ہیں اور وقت کے امام کو م<mark>ان</mark> لیتے ہیں لیکن جن کا تقویٰ کامل نہیں ہوتا وہ ٹھوکر کھا جاتے ہیںاور آخر ملائکہ کی صف سے نکل کر ابلیسوں کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں یہ نظارہ بھی ہر نبی کے زم<mark>ان</mark>ہ میں <mark>نظر</mark> آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زم<mark>ان</mark>ہ میں بھی ایک شخص زید نامی کا ہمیں پتہ ملتا ہے جواپنے آپ کو ابراہیمی دین پر کہتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں شرک کے خلاف لیکچر دیتا پھرتا تھا۔ایک دفعہ اس شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھ<mark>ان</mark>ا کھ<mark>ان</mark>ے کا موقع ملا تو اس نے کھ<mark>ان</mark>ا کھ<mark>ان</mark>ے سے <mark>ان</mark>کار کر دیا کہ میں مشرکوں کے ساتھ کھ<mark>ان</mark>ا نہیں کھاتا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں نے تو کبھی شرک نہیں کیا۔جب آپؐ نے دعویٰ کیا تو اس شخص کو ایم<mark>ان</mark> ل<mark>ان</mark>ے کی توفیق نہ ملی کیونکہ اس نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ نے نبی بن<mark>ان</mark>ا ہوتا تو مجھے بناتا جس نے اس قدر شرک کے خلاف جہاد کیا ہے (بخاری کتاب مناقب ال<mark>ان</mark>صار باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل و سیرت ابن ہشام ذکر ورقۃ بن نوفل… وزید بن عمروبن نفیل) یہ شخص بعثت نبوی سے پہلے گویا عربوں میں ایک فرشتہ کا رنگ رکھتا تھا مگر اس کے دل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے گریز کیا اور آپ ؐ کی بعثت کو لغو قرار دیا اور ایم<mark>ان</mark> سے محروم رہ گیا۔ایسے وجود ہر نبی کے زم<mark>ان</mark>ہ میں ہوتے ہیں اور باوجود ملائکہ کے اَظلال ہونے کے نبی کی بعثت پر اعتراض کر کے ابلیس بن جاتے ہیں۔باقی رہا تیسرا سوال کہ جو فرشتوں نے کہا وہ پورا ہوااور خدا تعالیٰ کا مقصد پورا نہ ہوا۔یہ بھی نا سمجھی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے کب کہا کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>وں میں فساد اور سفکِ دماء نہیں ہو گا۔یہ مضمون تو خلیفہ کے لفظ سے ہی ظاہر تھا۔اللہ تعالیٰ تو صرف یہ فرماتا ہے کہ باوجود اس کے کہ آدم کے خلیفہ ہونے کے معنے ہی یہ ہیں کہ اب <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی افعال شریعت کے تابع ہوں گے اور اس کے افعال آئندہ فساد اور سفکِ دم کہلائیں گے پھر بھی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی پیدائش ایک ایسی <mark>غرض</mark> کو پورا کرے گی جو کوئی دوسری مخلوق پورا نہیںکر سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس بات کو ردّ نہیں کرتا کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> سے فساد و خون کا ظہور ہو گا بلکہ صرف یہ فرماتا ہے کہ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی آدم کے ذریعہ سے ایک نئے نظام میں جو <mark>غرض</mark> پوشیدہ ہے وہ باوجود فساد اور سفکِ دم کے ایسی اہم ہے کہ اسے <mark>نظر</mark> <mark>ان</mark>داز نہیں کیا جا سکتا۔الفاظ آیت کو <mark>معترض</mark> غور سے دیکھیں تو یہاں یہ نہیں کہا کہ جو تم ج<mark>ان</mark>نے کا دعویٰ کرتے ہو غلط ہے بلکہ یہ کہاہے کہ جو تم نہیں ج<mark>ان</mark>تے اسے میں ج<mark>ان</mark>تا ہوں پس فرشتوں کے قول کو ردّ نہیںکیا بلکہ اس سے زائد امور کی طرف اشارہ کیا ہے جو فرشتوں کے شبہ کے درست ہونے کے باوجود <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی ضرورت کو ثابت کرتے ہیں۔<mark>غرض</mark> خدا تعالیٰ کی بات ہی پوری ہوئی۔