تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 378

نقشہ نہیں بلکہ بطور <mark>اس</mark>تعارہ کے <mark>اس</mark>تعمال ہوئی ہیں جیسے کسی <mark>اس</mark>تقلال والے شخص کو کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو پہاڑ ہے اب پہاڑ سے <mark>اس</mark> امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں ہوتا کہ وہ اُونچا اور ایک جگہ ٹھہرا <mark>ہوا</mark> ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ پہاڑ کو جو مقام جسمانی دنیا میں حاصل ہے وہ مقام <mark>اس</mark> شخص کو اخلاق کی دنیا میں حاصل ہے اور وہ اخلاقی طور پر بلند حوصلہ اور اپنے ارادہ سے نہ ٹلنے والا ہے لیکن پھر بھی چونکہ ان <mark>اس</mark>تعاروں کے علاوہ قرآن کریم میں جنت کی نعماء کی امتیازی خصوصیات بھی بیان کی گئی ہیں <mark>اس</mark> لئے مومن ان <mark>اس</mark>تعاروں کو سُن کر فوراً ان دوسرے مضامین کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ جو کچھ فرمایا سچ فرمایا اور یہ <mark>صداقت</mark> معمولی نہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے رب کی طرف سے آئی ہے یعنی یہ <mark>اس</mark>تعارے اور تشبیہات بالکل <mark>اس</mark> مضمون کے مطابق ہیں جو دوسری جگہوں پر جنت کی روحانی کیفیات کے متعلق بیان <mark>ہوا</mark> ہے گویا مومن ان <mark>اس</mark>تعاروں کی صحت اور ان کی مطابقت کی داد دیتے ہیں اور ان کے دل <mark>اس</mark> لذت سے مسرور ہو جاتے ہیں مگر <mark>اس</mark> کے مقابلہ میں کفار جو قرآن کریم کے دوسرے مضامین کو جو <mark>اس</mark> بارہ میں بیان ہوئے ہیں (جیسا کہ وہ مضامین جو میں جنت کی نعمتوں کے بارہ میں آیات قرآنیہ میں سے ہی پہلے بیان کر آیا ہوں) یا توجانتے نہیں یا جاننا چاہتے نہیں ان <mark>اس</mark>تعاروں اور تشبیہوں کو سن کر کہتے ہیں کہ مَاذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَـلًا آخر <mark>اس</mark> قسم کی بات بیان کرنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء کیا ہے یہ تو جیسی بیان ہوئی جیسی نہ ہوئی۔یہ تعصب او رجہالت کا نتیجہ ہوتا ہے ورنہ اِس دنیا میں <mark>اس</mark>تعاروں اور تشبیہات سے بہت بڑا کام لیا جاتا ہے <mark>اس</mark>تعارہ اور تشبیہ ہر زبان کا ایک جزو اہم ہیں اور اعلیٰ ادیب <mark>اس</mark> سے کام لیتے ہیں۔ایک بہادرکو بہادر کہنے سے اگرکام لیا جا سکتا تو <mark>اس</mark>ے شیر کے نام سے کیوں موسوم کرتے ایک سخی کو اگر سخی کہنے سے وہی فائدہ حاصل ہو سکتا جو حاتم کہنے سے حاصل ہو سکتا ہے تو <mark>اس</mark>ے حاتم کیو ںکہتے ہیں؟ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ میں جنّت کے متعلق پرُاِستعارہ کلام پر مومنوں کے ایمان رکھنے کا ذکر اصل بات یہ ہے کہ <mark>غیر</mark> مرئی اور لطیف وجودوں کو تشبیہات کے ذریعہ سے ہی ذہن کے قریب کیا ج<mark>اس</mark>کتا ہے۔آواز کے اُتار چڑھائو، سمٹنے اور پھیلنے کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پ<mark>اس</mark> کوئی معیار نہیں۔جب ایک شخص دوسرے کے سامنے آواز کی خوبی بیان کرتا ہے تو کس طرح اُسے میٹھی کے لفظ سے ظاہر کرتا ہے حالانکہ میٹھا تو زبان کے ذائقہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن پھر بھی آواز کی خوبی کو بیان کرنے کے لئے خوب اچھی و<mark>غیر</mark>ہ الفاظ سے انسان کو تسلی نہیں ہوتی اور آخر وہ میٹھی آواز کہہ کر اپنے مطلب کو بیان کرتا ہے۔خوشبو کا ذکر بھی مشکل ہوتا ہے اور خوشبو کے مختلف اثرات کو بیان کرنے والے کسی خوشبو کو پھسلنے والی، کسی کو گول اور کسی کو چپٹی کہہ کر <mark>اس</mark> کی کیفیت ذہن نشین کراتے ہیں حالانکہ خوشبو