تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 363

ہوںگی <mark>اس</mark> میں <mark>اس</mark> طرف اشارہ ہے کہ جنت میں ہر شخص کا دائرہ عمل دوسروں کے اثر اور دخل اندازی سے آزاد ہو گا اور نیچے بہنے سے مراد یہی ہے کہ ہر باغ کی نہر <mark>اس</mark> سے متعلق ہو گی اور <mark>اس</mark> کے انتظام کا حصہ ہو گی <mark>اس</mark> <mark>دنیا</mark> کی طرح نہ ہو گا کہ ایک نہر کئی باغوں اور کھیتوںکو پانی دیتی ہے اور بسا اوقات لوگو ںمیں <mark>اس</mark> کے پانی کی تقسیم پر جھگڑا ہو جاتا ہے۔كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاکے دو معنے كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا <mark>اس</mark> میں رِزْقًا مفعول مطلق بھی ہو سکتا ہے او رمفعول بہٖ بھی۔مفعول مطلق کی صورت میں رِزْقًاکے معنے ہوں گے اچھی طرح <mark>دین</mark>ا۔اور آیت کا ترجمہ یہ ہو گا کہ جب کبھی پھلوں کی قسم سے کوئی چیز انہیں بطریق احسن دی جائے گی۔ان معنوں کے لحاظ سے آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ مومنوںکو ان کے ایمان کا پھل ہی نہیں ملے گا بلکہ ان کا ایسا اعزاز کیا جائے گا کہ وہ پھل کامل طور پر انہیں ملے گا اور خدا تعالیٰ کی عطا <mark>اس</mark>ی طرح ہو گی کہ جو عطا کرنے کا حق ہے۔رِزْقًا کو اگر مفعول بہٖ ما نا جائے تو <mark>اس</mark> کے معنے مَرْزُوْقٌ کے کئے جائیں گے یعنی کھانے کی چیز یا دی جانے والی چیز اور <mark>اس</mark> صورت میں <mark>اس</mark> کے یہ معنے ہوں گے کہ جب کبھی کوئی کھانے کی چیز انہیں دی جائے گی جو پھلوں کی قسم سے ہو گی تو وہ اگلا بیان کردہ فقرہ دہرائیں گے۔<mark>اس</mark> صورت میں زور عبارت کا مِنْ ثَمَرَۃٍ پر ہو گا اور <mark>اس</mark> طرف اشارہ سمجھا جائے گا کہ جو کچھ انہیں ملے گا وہ ان کے ایمان اور اعمال کا نتیجہ ہو گا۔قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَاکے دو <mark>معنی</mark> قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ۔وہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو ہمیں پہلے مل چکا ہے۔مفسرین لکھتے ہیں کہ یا تو <mark>اس</mark> کے یہ <mark>معنی</mark> ہیں کہ <mark>دنیا</mark> میں اللہ تعالیٰ ہمیں جو پھل دیتا تھا وہی پھل ہمیں وہ یہاں بھی دے رہا ہے یا <mark>اس</mark> کے یہ معنے ہیں کہ بار بار پھل ملیں گے اور وہ ہر دوسری بار کہیں گے کہ یہ وہی چیز ہے جو ہمیں پہلے بھی مل چکی ہے۔گویا جنت کی نعمتوں کی تکرار کی طرف اشارہ کریں گے لیکن میرے نزدیک یہ دونوں <mark>معنی</mark> درست نہیں کیونکہ اگر <mark>اس</mark> کے یہ <mark>معنی</mark> کئے جائیں کہ <mark>دنیا</mark> میں بھی ہم کو پھل ملے تھے اور اب بھی ملے ہیں تو <mark>اس</mark> کے معنے تو یہ ہوںگے کہ <mark>دنیا</mark> کے پھل اور آخرت کے پھل ایک قسم کے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ(السجدة :۱۸) کوئی شخص بھی نہیں جانتا کہ جنت میں اُسے کیا ملنے والا ہے پھر جنت کے پھلوں کو <mark>دنیا</mark> کے مادی پھلوں جیسا قرار <mark>دین</mark>ے کے معنے کیا ہوئے اور اگر یہ معنے کئے جائیں گے کہ ایسے پھل ہمیں جنت میں پہلے بھی مل چکے ہیں تو اول تو <mark>اس</mark> پر یہ <mark>اعتراض</mark> وارد ہوتا ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے جب بھی انہیں پھل ملیں گے وہ یہ فقرہ کہیں گے لیکن ظاہر ہے کہ پہلی دفعہ پھل ملنے پر وہ یہ فقرہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ رُزِقْنَا مِنْ