تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 78

تھوڑے بہت مسلمان مسجد و ں میں آتے ہیں ان کی <mark><mark>نما</mark>ز</mark>وں کو اگر جمع کیا جائے اور وہ عیسائیوں پر دس سال میں پھیلادی جائیں تو تمام عیسائیوں نے دس سال میں اتنی <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں نہیں پڑھی ہوں گی جتنی مسلمانوں نے ایک سال میں پڑھی ہوں گی۔مثلاً سو میں سے اگر پانچ مسلمان <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چالیس کروڑ میں سے دو کروڑ مسلمان روزانہ <mark>نما</mark> زپڑھتے ہیں یہ دو کروڑمسلمان دس کروڑ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یںروزانہ ادا کرتے ہیں ہفتہ میں ستر کروڑ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں ہوئیں اور پھر یہ ستر کروڑ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں وہ ہیں جو باجماعت ہیں۔عیسائیوں میں صرف دو چار فیصدی لوگ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھتے ہیں ہندوستان میں تو یہ لوگ زیادہ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھتے ہیں کیونکہ یہاں عموماً وہ دکھاوا زیادہ کرتے ہیں لیکن یورپ میں یہ دو فیصدی بھی نہیں ہو تے۔بڑےبڑے گرجوں میں صرف پانچ پانچ چھ چھ آدمی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور عبادت کر لیتے ہیں لیکن اگر ان کی اوسط بھی پانچ فیصدی فرض کی جائے تب بھی پانچ فیصدی عیسائیوں کی ہفتہ میں صرف پانچ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں ہو تی ہیں۔اس کے مقابلہ میں صرف ایک مسلمان ہفتہ میں ۵x۷ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھتا ہے یعنی پانچ پانچ روزانہ اور ہفتہ میں پانچ فیصدی مسلمانوں کی <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں ۱۷۵ ہو جاتی ہیں۔یہ کتنا بڑا فرق ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کی <mark><mark>نما</mark>ز</mark> میں پایا جاتا ہے کہ پانچ فیصدی عیسائی ہفتہ میں ایک <mark><mark>نما</mark>ز</mark> پڑھتے ہیں اور پانچ فیصدی مسلمان ہفتہ میں ۱۷۵ <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھتے ہیں۔گویا مسیحیوں کی تعداد اگر مسلمانوں کےبرابر ہو اور مسیحی گرجوں میں اتنے فیصدی جاتے ہوں جتنے مسلمان <mark><mark>نما</mark>ز</mark> پڑھتے ہیں گو ایسا نہیں ہے تو پھر بھی مسلمان مسیحیوں سے ۱۷۵ گنے زیادہ <mark><mark>نما</mark>ز</mark> با جماعت ادا کرتے ہیں۔پھر ہندوؤں میں تو اتنا بھی نہیں۔زردشتیوں میں پادری جاتے ہیں اور سمندر کے کنارے تھوڑی سی دعا کر لیتے ہیں۔پس اسلام نے جو <mark><mark>نما</mark>ز</mark> مقرر کی ہے اس کے مقابلہ میں دوسرے تمام مذاہب کی <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں ہیچ ہیں۔عیسائیوں میں تواب ہفتہ والی <mark><mark>نما</mark>ز</mark> بھی نہیں رہی۔پادری اعلان کرتے ہیں کہ فلاں دن گرجا میں گانا ہو گا اور گانے کی خاطر کچھ لوگ جمع ہو جاتے ہیں لیکن مسلمانوں میں امام خاموشی کے ساتھ مسجد میں آجاتا ہے، <mark><mark>نما</mark>ز</mark> پڑھنے والے بھی آجاتے ہیں اور جماعت ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں مسلمانوں میں سے اکثر اب <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یںنہیں پڑھتے مگر پھر بھی دوسروں کے مقابلہ میں ان کی نسبت کم نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے۔پس اسلام نے جماعت کا جو اصل قائم کیا ہے اور جس کے ذریعہ اسلا م نے قومی اجتماع کی صورت پیدا کی ہے اس کی دنیا میں اور کہیں مثال نہیں ملتی۔پھر اس کے ساتھ اسلام نے یہ شرط بھی رکھ دی ہےکہ اگر اپنے محلہ میں ہو تو اپنے محلہ کی مسجد میں <mark><mark>نما</mark>ز</mark>یں پڑھو۔دوسرے مذاہب میں یہ بات نہیں بلکہ جس گرجا میں چاہیں <mark><mark>نما</mark>ز</mark> پڑھ لیتے ہیں اور اس طرح دوسرے ہمسائیوں اور خود امام <mark><mark>نما</mark>ز</mark> سے اختلاف کی روح <mark><mark>نما</mark>ز</mark>وں تک میں پیدا ہو جاتی ہے لیکن اسلام نے جماعت میں جو فوائد ہو سکتے ہیں ان