حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 80
حقائق الفرقان ۸۰ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ قدم - وہ کام جو نہ کرنے کے تھے۔ کر لئے۔ آخر ۔ وہ کام جو کرنے کے تھے۔ نہ کئے ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخہ ۴ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۷) استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمد اہوں یا سہوا۔ غرض مَا قَدَّمَ وَ آخَرَ ۔ جو نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے ۔ اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نا رضا مندیوں کو مَا أَعْلَمُ وَمَا لَا أَعْلَمُ کے نیچے رکھ کر یہ دعا کرے کہ میری غلطیوں اور آئندہ کے لئے غلط کاریوں کے بدنتائج اور بداثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان بدیوں کے جوش سے محفوظ فرما۔ یہ ہیں مختصر معنے استغفار کے ۔ ( الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۵ مورخه ۲۶ رفروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۳) ۱۵ - بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةً - ترجمہ ۔ بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے۔ تفسیر ۔ دوسرے کی ملامت پر انسان عذر بتاتا ہے مگر خود اپنی حالت کو بہتر جانتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱ ۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۷) ۱۷ تا ۲۰ ۔ لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ - إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ - فَإِذَا قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ - ترجمہ ۔ نہ ہلا قرآن پڑھنے پر اپنی زبان تا کہ تو جلدی اس کو یاد کرے۔ بے شک ہمارے ذمہ ہے قرآن کا جمع کرنا اور پڑھنا ۔ پھر جب کہ ہم پڑھا چکیں تو اس کے بعد تو بھی پڑھا کر ۔ پھر اس کا سمجھانا ہم پر فرض ہے۔ تفسیر۔ نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان کہ شتاب اس کو سیکھ لے۔ وہ تو ہمارا ذمہ ہے۔ اُس کو سمیٹ رکھنا اور پڑھانا۔ پھر جب ہم پڑھنے لگیں تو ساتھ رہ تو اس کے پڑھنے کے پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اس کو کھول بتانا۔ فصل الخطاء الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۱۹۸ حاشیه ) لَا تُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه - آیت باب ذو المعارف ہے اس کے دو ترجمے ہیں۔