حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 74
حقائق الفرقان ۷۴ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ جواب دہ ہستی ہے وہ اپنے اعمال اور افعال کی ذمہ وار ہستی ہے ایسا ہی آسمان سے پانی برسنے اور زمین پر نباتات اُگنے سے جا بجا استدلال کیا ہے اب ان واقعات کو پیش کر کے کس طرح خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا پھر آخر میں سوال فرماتا ہے اور اس بلی قادرین کے دعوئی جواب میں یہ تمام دلائل پیش کر کے پوچھتا ہے أَلَيْسَ ذَالِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى اس مقام پر بے اختیار ہو کر انسانی فطرت اس امر کا اقرار کر اٹھتی ہے ۔ بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - ( ترجمۃ القرآن مولفه شیخ یعقوب علی صاحب ) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۶،۲۹۵) لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيمَةِ - ترجمہ ۔ قسم کھاتا ہوں روز قیامت کی۔ تفسیر لا کو اکثروں نے زائد بتایا ہے۔ اور حدیث شریف میں ہر ہر حرف پر دس دس نیکیوں کا ثواب مذکور ہے۔ جب بات سمجھ میں نہ آئی ۔ تو وہ زائد ہی ہوئی۔ کفار کو جس قدر بعث بعد الموت کے مسئلہ پر انکار و اصرار تھا۔ ایسا کسی دوسرے مسئلہ پر سوائے شرک کے نہیں تھا۔ چنانچہ نہایت ہی تعجب ہے۔ کفار نے کہا۔ هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَى رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزْقْتُمْ كُلَّ مُبَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ - (سبا: ۸) ادھر سے انکار پر اس قدر اصرار تھا اور ادھر اثبات بعث بعد الموت پر جگہ جگہ زور دیا گیا ہے۔ اس رد و کد کو مد نظر رکھ کر مخاطب کے مافی الضمیر پر انکاری طریق سے کلام کا افتتاح ”لا“ کے لفظ سے علم کا رد فرمایا ہے۔ یعنی قوله تعالى زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا ۔ (التغابن : ۸) میں جو زعم کہ منکران بعث بعد الموت کے ضمیر میں رچا ہوا تھا۔ اس کی نفی ”لا“ کے لفظ سے کرتے ہوئے کلام کو لے ہم تم کو بتائیں ایسا ایک شخص جو تم کو اطلاع دیتا ہے کہ جب سڑ گل کر بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے پھر تم کو ضرور نئے سرے سے پیدا ہونا پڑے گا۔ ۲ منکر لوگ دعوی کرتے ہیں کہ ان کو ہرگز نہ اٹھایا جائے گا۔