حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 69
حقائق الفرقان ۶۹ سُورَةُ الْمُدَّيْرِ رو ۵۱ - كانهم نهم حمر مسنة مستنفرة - - ترجمہ۔ گویا وہ گدھے ہیں بدکے ہوئے۔ تفسیر - محمد جمع ہے حمار کی۔ حمار کو حمار اس مناسبت سے کہتے ہیں کہ اس کی چیخ پکار کے وقت اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر صادق کے مقابلہ میں گدھوں کی طرح مخالفوں کا سخت غیظ و غضب ہوتا ہے۔ جہاں سخت مخالفت ہوتی ہے۔ اس کے بالمقابل حق ضرور ہوتا ہے۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ۔ ز اول چنیں مجوش ببین تاب آخرم کے ۵۲ - فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةِ - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۵) ترجمہ (چونکے ہوئے ) بھاگے ہیں شیر سے۔ تفسير - قَسُورةِ - قَسَر سے مشتق ہے۔ جس کے معنے قہر اور غلبہ کے ہیں ۔ اہل عرب بولا کرتے ہیں ۔ لُيُوثُ قَسَاوِرَة - لیوٹ جمع لیٹ کی ہے۔ لیث بمعنی شیر ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ الْقَسْوَرَةُ هِيَ الْأُسُدُ - قسورة ان تیراندازوں کی جماعت کو بھی کہتے ہیں۔ جو جہ جو جنگلی گدھوں کا شکار کرتی ہیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخہ ۴ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۵) ۵۳ - بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ أَنْ يُؤْتَى صُحُفًا مُنَشَرَةً - ۔ ترجمہ ۔ بلکہ چاہتا ہے ان میں سے ہر شخص کہ اس کو دیئے جائیں صحیفے کھلے ہوئے۔ تفسیر ۔ شاہ عبد القادر صاحب موضح القرآن حاشیہ میں فرماتے ہیں ۔ ہر کوئی نبی ہوا چاہتا ہے کہ کھلی کتاب پاوے آسمان سے ضمیمه اخبار بد قادیان جلد نمبر ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۴ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۲۹۵) ۵۶ ، ۵۷ - فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ - وَ مَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ - ترجمہ ۔ پس جو کوئی چاہے اس کو یاد کرے۔ اور وہ یا د ہی نہیں کر سکتے بے مشیت الہی ۔ اس کی ے میرا انجام دیکھے بغیر آغاز میں ہی میری مخالفت میں جوش نہ دکھلاؤ۔