حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 524
حقائق الفرقان مالک دیکھتا ہے۔ ۵۲۴ سُوْرَةُ الْفَلَقِ لفظ حاسد کو اس جگہ نکرہ رکھا ہے۔ معرفہ نہیں رکھا۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ حسد ہمیشہ برا نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر نیکیوں کے حصول کے واسطے حسد کیا جائے تو وہ حسد محمود ہے۔ رہے اس سورۃ میں انسان کے جسمانی فوائد کے واسطے دعا ہے اور اگلی سورۃ میں روحانی فوائد کی باتیں مندرج ہیں۔ یہ سورۃ بھی بجائے خود ایک جامع دعا ہے جن میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں پناہ مانگی گئی ہے۔ ا۔ تمام مخلوقات کے شر سے۔ ۲ تاریکی کرنے والی اشیاء کے شر سے۔ مخالفانہ مخفی تدابیر کرنیوالوں کے شر سے۔ ۴۔ حاسد کے شر سے۔ فقرہ اول میں دراصل سب شامل ہیں اور فقرہ دوم و سوم و چهارم اُس کی تشریح ہیں۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ ان میں جو امر اس قسم کا ہے کہ کسی انسان کے واسطے موجب تکلیف اور دکھ اور ضر ر ہو سکتا ہے۔ ان سب سے خدا تعالیٰ ہم کو بچائے اور محفوظ رکھے۔ پیدا دنیا میں جس قدر مفاسد پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ یا تو بہ سبب تاریکی اور ظلمت کے پھیل جانے کے اہوتے ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دنیا میں ایک تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ روحانیت کی باتوں سے بے خبر تھے۔ نصاری مریم اور یسوع اور حواریوں کے بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ایرانی آتش پرستی میں مصروف تھے۔ ہندو کئی کروڑ دیوی دیوتاؤں کے آگے پیشانی رگڑنے میں مصروف ہو رہے تھے۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور دنیا میں چمکا اور مخلوق النبی کے واسطے موجب ہدایت کا ہوا۔ سو یا تو مفاسد خود تاریکی کے سبب سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور یا مخالف دشمن لوگ شرارت کے ساتھ تاریکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اور فاسد لوگ از روئے حسد کے فساد مچا کر