حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 515
حقائق الفرقان ۵۱۵ سُوْرَةُ الْفَلَقِ دوسرے کو بلاتا ہے اور اسی طرح ایک نیکی دوسری نیکی کو بلاتی ہے۔ دیکھو بد نظری ایک گناہ ہے۔ جب انسان اس کا ارتکاب کرتا ہے تو دوسرے گناہ کا بھی اسے ارتکاب کرنا پڑتا ہے اور زبان کو بھی اس طرح شامل کرتا ہے کہ کسی سے دریافت کرتا ہے کہ یہ عورت کون ہے۔ کسی جگہ رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب زبان بھی ملوث ہوئی اور ایک دوسرا شخص بھی اور جواب سننے کی وجہ سے کان بھی شریک گناہ ہو گئے اس کے بعد اس کے مال اور روپیہ پر اثر پڑتا ہے اور اس گناہ کے حصول کے واسطے روپیہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ غرض ایک گناہ دوسرے کا باعث ہوتا ہے۔ پس مسلمان انسان کو چاہیے کہ ایسے ارادوں کے ارتکاب سے بھی بچتا رہے اور خیالات فاسدہ کو دل میں بھی جگہ نہ پکڑنے دے اور ہمیشہ دعاؤں میں لگار ہے۔ انسان اپنی حالت کا خود اندازہ لگا سکتا ہے۔ اپنے دوستوں اور ہم نشینوں کو دیکھتا رہے کہ کیسے لوگوں سے قطع تعلق کیا ہے۔ اور کیسے لوگوں کی صحبت اختیار کی ہے۔ اگر اس کے یار آشنا اچھے ہیں اور جن کو اس نے چھوڑا ہے ان سے سے بہتر اسے مل گئے ہیں ۔ جب تو خوشی کا کا مقام مقام ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ بصورت دیگر خسارہ میں دیکھنا چاہیے کہ جو کام چھوڑا ہے اور جو اختیار کیا ہے۔ ان میں سے اچھا کون سا ہے۔ اگر برا چھوڑ کر اچھا کام اختیار کیا ہے۔ تو مبارک۔ ورنہ خوف کا مقام ہے۔ کیونکہ ہر نیکی دوسری اختیارکیا نیکی کو اور ہر بدی دوسری بدی کو بلاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو توفیق دے کہ تم اپنے نفع اور نقصان کو سمجھ سکو۔ اور نیکی کے قبول کرنے اور بدی کے چھوڑنے کی توفیق عطا ہو۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۷ جلد ۱۲ مورخه ۶ رجون ۱۹۰۸ء صفحه ۳-۴) اس سورہ شریف کی تفسیر سے پہلے اس امر کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ کے شانِ نزول میں بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ کسی یہودی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا تھا اور اس قسم کے جادوگروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی۔ اس واقعہ کو اگر احادیث میں دیکھا جائے ۔ اول تو اس حدیث کا راوی صرف ایک شخص ہے یعنی ہشام حالانکہ اتنے بڑے واقعہ کے واسطے ضروری تھا کہ کوئی اور صاحب بھی اس کا ذکر کرتے ۔ دوم اگر