حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 498 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 498

حقائق الفرقان ۴۹۸ سُوْرَةُ الْإِخْلَاصِ بربادی کا موجب ہے۔ تو اس کے بالمقابل توحید اُس کی عمدگی اور آبادی کا باعث ہے۔ ایسا ہی قرآن شریف میں ایک اور جگہ آیا ہے کہ لَوْ كَانَ فِيهِمَا الهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا (الانبیاء: ۲۳) اگر زمین و آسمان کے اندر اللہ کے سوائے کوئی اور معبود ہوتا۔ تو ان میں فساد مچ جاتا۔ فساد کی دوری اس سے ہے کہ ان میں توحید قائم کی جاوے۔ ۱۴ ۔ سورۃ المانعہ : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے تجھے سورۂ اخلاص عطا کی ہے۔ جو کہ عرش کے خزانوں کے ذخیروں میں سے ہے۔ اور عذاب قبر سے روکتی ہے۔ ۱۵۔ سورۃ المحضر ہ: کیونکہ اس کے پڑھنے کے وقت فرشتے اس کے سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں ۔ ١٦ - سورة المنفرة: کیونکہ شیطان اسے سن کر بھاگ جاتا ہے۔ ۱۷۔ سورة البراءة: کیونکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جو یہ سورۃ پڑھتا تھا فر مایا کہ تو آگ سے بری ہو گیا۔ ۱۸ - سورة المذكرة: کیونکہ یہ سورت انسان کو خدا تعالیٰ کی توحید یاد دلاتی ہے اور غفلت سے نکالتی ہے۔ ١٩ - سورة النور - حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر ایک شے کے لئے - ایک نور ہوتا ہے اور قرآن شریف کا نور قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ہے ۔ ۲۰ سورۃ الامان: حدیث شریف میں آیا ہے، جس کسی نے کہا لا اله الا الله وہ اللہ کے قلعہ میں داخل ہوا، جو قلعہ میں داخل ہوا ، اُس نے امان پائی۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ یا رسول الله إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ ۔ میں اس سورہ (اخلاص) سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ اس کی محبت تجھے بہشت میں داخل کر دیگی ۔