حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 39
حقائق الفرقان ۳۹ سُورَةُ الْمُزَّمِّلِ امر چهارم - حجۃ الوداع یعنی آخری حج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا۔ چنانچہ چند الفاظ اس طویل خطبے کے آخر سے نقل کئے جاتے ہیں۔ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ فَقَالَ النَّاسُ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ اللَّهُمَّ اشْهَدُ ا - الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دينا (المائدة:۴) نوٹ ۔ یہ آیت اور وہ حدیث با ظهار حق و با قرار عباد گواہی دیتی ہے کہ آنحضرت نے سب کچھ بتلایا۔ - ا امر پنجم ۔ تمام مکہ اور حجاز کے گھر گھرکو دیکھ تمام مخالفوں اور اس کا کہا نہ ماننے والوں کا نام ونشان ہی نہ رہا۔ اور دیکھو کہ آیت إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ( الكوثر : ۴) سے کی پشین گوئی کیسی پوری ہوئی۔ اہل حجاز پر ہی کیا منحصر ہے۔ تمام عرب اور بلاد شام پر غور کرو۔ جو خدا کی خاص چھاؤنی اور کل انبیائے بنی اسرائیل کا ہیڈ کوارٹر اور کالج ہے۔ دیکھو اسی پیشین گوئی کے مطابق قرآن فرماتا ہے۔ ا - إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْتُهُ أَخْذَا وَبِيلًا - ( المزمل : ۱۶ - ۱۷) ٢ - يُقَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللهِ وَ آمِنُوا بِهِ يَغْفِرُ لَكُم مِّنْ ذُنُوبِكُمْ وَ يُجِرُكُم مِّنْ عَذَابٍ الِيْمٍ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزِ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءُ اے اے میرے پروردگار کیا میں نے سب کچھ پہنچا دیا۔ لوگوں نے کہا۔ ہاں ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ میرے تو گواہ رہ ۔ ۲ آج میں پورا دے چکا تم کو دین تمہارا اور پورا کیا میں نے تم پر احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے دین مسلمانی ۔ سے بے شک جو بیری ہے تیرا وہی رہا پیچھا کٹا ۔ ہے ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول بتانے والا تمہارا جیسے بھیجا فرعون کے پاس۔ پھر کہا نہ مانا فرعون نے رسول کا۔ پھر پکڑا ہم نے اس کو پکڑ و بال کی ۔