حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 472
حقائق الفرقان ۴۷۲ سُورَةُ النَّصْرِ بڑا ملا ہے۔ یہ نتیجہ ہوتا ہے انسان کے معاصی کا۔ ان کی بصر اور بصیرت جاتی رہتی ہے۔ اور ان کی آنکھیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے چہروں پر نگاہ کر کے اہلِ بھر انہیں اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے سانپ، بندر خنزیر کو دیکھتے ہیں ۔ اس لئے مومن کو چاہیے کہ خدا کی حمد اور تسبیح کرتا ر ہے اور اس سے حفاظت طلب کرتا رہے جیسے ایمان ہر نیکی کے مجموعہ کا نام ہے۔ اسی طرح ہر برائی کا مجموعہ کفر کہلاتا ہے۔ ان کے ادنی اور اوسط اور اعلیٰ تین درجے ہیں ۔ پس امید و بیم ، رنج و راحت ، عسر ویر میں قدم آگے بڑھاؤ اور اس سے حفاظت طلب کرو۔ غور کرو۔ حفاظت طلب کرنے کا حکم اس عظیم الشان کو ہوتا ہے جو خاتم الانبیاء، اصفی الاصفیاء سید ولید آدم ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ تو پھر اور کون ہے جو طلب حفاظت سے غنی ہو سکتا ہے۔ مایوس اور نا امید مت ہو۔ ہر ہو۔ ہر کمزوری غلطی ، بغاوت کے لئے دعا سے کام لو۔ دعا سے مت تھکو۔ یہ دھوکا مت کھاؤ۔ جو بعض ناعاقبت اندیش کہتے ہیں کہ انسان ایک کمزور ہستی ہے۔ خدا اس کو سزا دیکر کیا کریگا ؟ انہوں نے رحمت کے بیان میں غلو کیا ہے۔ کیا وہ اس نظارہ کو نہیں دیکھتے کہ یہاں بعض کو رنج اور تکلیف پہنچتی ہے۔ پس بعد الموت عذاب نہ پہنچنے کی ان کے پاس کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ یہ غلط راہ ہے جو انسان کو کمزور اور سست بنا دیتی ہے۔ بعض نے یاس کو حد درجہ تک پہنچا دیا ہے کہ بدیاں حد سے بڑھ گئی ہیں ۔ اب بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ استغفار اس سے زیادہ نہیں کہ زہر کھا کر کلی کرلی۔ یہ بھی سخت غلطی ہے۔ استغفار انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔ اس میں گناہ کے زہر کا تریاق ہے۔ پس استغفار کو کسی حال میں مت چھوڑو۔ پھر آخر میں کہتا ہوں کہ نبی کریم سے بڑھ کر کون ہے۔ وہ اخشى لله ، اتقى اللهِ ، اَعْلَمُ بِاللهِ انسان تھا ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پس جب اس کو استغفار کا حکم ہوتا ہے تو دوسرے لا ابالی کہنے والے کیونکر ہو سکتے ہیں۔ پس جنہوں نے اب تک اس وقت کے امام راست باز کے ماننے کے لئے قدم نہیں اٹھایا ۔ اور ڈبدا میں ہیں ۔ وہ استغفار سے کام لیں کہ ان پر سچائی کی راہ کھلے اور جنہوں نے خدا کے فضل سے اسے مان لیا ہے وہ استغفار کریں تا کہ آئندہ کے لئے سے لیا معاصی اور کسی لغزش کے ارتکاب سے بچیں اور حفاظت النبی کے نیچے رہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۲ ء صفحہ ۶-۷ )