حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 449
حقائق الفرقان ۴۴۹ سُورَةُ النَّصْرِ ا سے ہیں۔ اور ان پر ہنسی کرتے ہیں۔ اور طعن کرتے ہیں کہ تم لوگوں نے اسلام میں داخل ہو کر کیا فائدہ حاصل کر لیا۔ دیکھو ہم نے تم کو شہر مکہ سے بھی نکال دیا ہے۔ لیکن عنقریب وہ وقت آتا ہے کہ ان کی ساری شیخی کرکری ہو جاوے گی اور ان کے متکبر سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اور مکہ کا باعظمت گھر بتوں سے پاک کیا جاوے گا اور اس کے مناروں پر لا إلهَ إِلَّا الله کا نعرہ بلند کیا جاوے گا اور کمزور اور نا واقف لوگ جو اس وقت بہ سبب حجاب کے دینِ الہی میں داخل نہیں ہیں ۔ ان کے واسطے وقت آجائے گا کہ تمام روکیں دور ہو کر وہ ایک سیلاب کی طرح اسلام کی طرف دوڑ پڑیں گے اور فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونے لگ جائیں گے۔ وو اگر اذا جاء کے معنے استقبال کے نہ لئے جائیں اور اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ ” جب فتح و نصرت النبی آگئی تب بھی یہ درست ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی کے جو پیشگوئیاں نازل ہوتی ہیں اور ان میں خدا اپنے بندے کی نصرت اور فتح کی خوشخبری دیتا ہے۔ چونکہ وہ بات یقینی ہوتی ہے اور ضرور ہو جانے والی ہے ۔ کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا ہے اور آسمان پر مقدر ہو چکا ہے کہ یہ کام اس طرح سے ہوگا ۔ اس واسطے اس کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ گویا یہ کام ہو گیا ہے۔ کیونکہ کوئی کام زمین پر نہیں ہو سکتا جب تک کہ پہلے آسمان پر نہ ہوئے۔ اس کی مثال دنیوی محاورات میں بھی موجود ہے۔ جب کسی کو یقین ہو جاوے کہ اس مقدمہ میں تمام امور میری مرضی کے مطابق طے ہو جائیں گے اور میں ضرور فتح پالوں گا تو وہ کہتا ہے کہ بس میں نے مقدمہ فتح کر لیا۔ حالانکہ ہنوز مقدمہ زیر بحث ہوتا ہے اور عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا ہوتا۔ لیکن بہ سبب یقین کے وہ ایسا ہی کہتا ہے کہ مقدمہ فتح ہو گیا۔ اس قسم کے الہامات اور پیشگوئیوں کی تازہ مثالیں خود اس زمانہ میں موجود ہیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بسا اوقات ایسے الہامات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جو کہ اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتے ہیں ۔ مثلاً ۱۴ را پریل ۱۹۰۶ ء کو حضرت مسیح موعود پر خدا تعالیٰ کی وحی بدیں الفاظ ہوئی کہ زلزلہ آیا۔ زلزلہ آیا اور یہ خبر اس زلزلہ کے متعلق تھی جو ۱۱۸ مئی ۱۹۰۶ ء کو واقع ہوا۔ لیکن چونکہ اس کا آنا مقدر ہو چکا تھا۔ اس واسطے ایک ماہ پہلے ہی کہا گیا کہ زلزلہ