حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 438
حقائق الفرقان ۴۳۸ سُورَة الْكَافِرُونَ ایسی امید ہو سکتی ہے۔ ان کو کہہ دو کہ تم جو اپنے کفر پر ایسے پکے ہو اور مسلمانوں کو برا سمجھتے ہو۔اسی سے حق اور باطل میں تمیز ہو جائے گی کہ تم اپنے دین پر پکے رہو۔ اور ہم اپنے دین پر پکے رہیں۔ نتیجہ خود ظاہر کر دے گا کہ کون سچا اور منجانب اللہ ہے۔ اور کون جھوٹا اور شیطانی راہ پر ہے۔ چونکہ اس سورہ شریف میں کفار کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اور ان کے مذہب کے بطلان کے واسطے ایک زبردست دلیل پیش کی گئی ہے۔ اس واسطے یہ کلام بطور ایک چیلنج کے خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو القا کیا اور اسی واسطے اس کے شروع میں لفظ قُل آیا ہے۔ تفاسیر میں قلی پر بہت بحث کی گئی ہے۔ خلاصہ اصہ اس تمام تحریر کا یہ ہے کہ یہ سورۃ صریح الفاظ میں کفار کے ساتھ بے زاری کا اظہار کرتی ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ اس نیت سے کہ وہ سمجھ جاویں۔ بہت نرمی کا سلوک کرتے تھے۔ اور ان کی سخت سے سخت ایذاء رسانی پر صبر کرتے تھے۔ اور کسی کے ساتھ ذراسی سخت کلامی بھی پسند نہ کرتے تھے۔ اس واسطے یہ کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔ جس کا پہنچانا آپ پر فرض ہوا اور اس طرح آپ نے صاف الفاظ میں صراحت کے ساتھ ان پر ظاہر کر دیا کہ ایسے کفار کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہ ہوا۔ نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ ۔ سنو ۔ اے منکر و ! اس میں تین حروف ایک جگہ جمع کئے گئے ہیں ۔ یا ( حرف ندا ) اٹھی ( تخصیص کے لئے ہے ) اور تھا ( تنبیہ کا حرف ہے خبردار کرنے کے لئے ) جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہایت تاکید کے ساتھ اچھی طرح منکروں کے کان کھول کھول کر ان کو یہ پیشگوئی سنائی گئی تھی کہ تم کو تمہارے اس طریقہ کا بدلہ ملنے والا ہے۔ اور تم دیکھ لوگے کہ خداوند تعالی توحید کے پرستاروں کو تمہارے مقابلہ میں کس طرح کامیابی عطا کرے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یا نداء النفس ہے اور آئی نداء القلب ہے اور کھا نداء الروح ہے۔ گو یا نفس روح اور قلب ہرسہ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ یا حرف نداء غائب کے واسطے ہے۔ اور آئی حرف نداء حاضر کے واسطے اور تھا تنبیہ کے واسطے کیا حاضر کیا غائب ، سب کو نہایت تاکید کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے۔ انبیاء کی دعوت ہمیشہ اسی طرح نہایت تاکید کے ساتھ بار بار لوگوں کو بلا کر اور مخاطب کر کے