حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 402 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 402

حقائق الفرقان لد ١٠ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الہی بتلائے گئے ہیں۔ ان کی مثال کسی آسمانی کتاب میں نہیں پائی جاتی اور اسی خیر کثیر میں سے وہ محامد الہی ہیں جو دینِ اسلام کے ذریعہ سے دنیا پر پھیلائے جا رہے ہیں ۔ کیا آپ دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے مسلمان آواز بلند کے ساتھ بلند مناروں اور اونچی جگہوں پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرتے ہیں اور اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں۔ کیا اللہ اکبر سے بڑھ کر کوئی بڑا لفظ خدا تعالیٰ کی کبریائی کے واسطے تمہیں معلوم ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی تعریف اور تسبیح سے بھری ہوئی کس قدر دعا ئیں ہر ایک موقع پر کی جاتی ہیں۔ کھانے کے وقت کی دعائیں اور پینے کے وقت کی دُعائیں اور سو کر اٹھنے کے وقت کی دعا ئیں اور مسجد میں داخل ہونے کی دعا اور مسجد سے نکلنے کے وقت کی دعا اور کھڑا ہونے کے وقت کی دعا اور بیٹھنے کے وقت کی دعا اور بازار کو جانے کی دعا اور بازار سے لوٹنے کی دعا اور ایسا ہی سفر کی دعائیں اور حضر کی دعا ئیں اور دکھ درد کے وقت کی دعائیں اور جنگ کے وقت کی دعا ئیں اور چار پائی پر لیٹنے کے وقت کی دعائیں اور حاجت کے وقت کی دعا اور تکلیف اور غم اور حزن اور فتنوں کے وقت کی دعا ئیں ۔ غرض اسلام میں ہر وقت انسان اپنے رب کی حمد اور تسبیح میں مصروف ہے۔ اور کسی وقت بھی اس کی تعریف سے غافل نہیں۔ یہ ایک خیر کثیر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی عطا ہوئی ہے۔ پھر دیکھو کہ اسلامی لٹریچر میں ہر ایک کتاب کا ابتدا اور انتہا اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف سے ہوتا ہے۔ اور ہر ایک خطبہ اور ہر ایک رسالہ خدا کے نام کی تعریف سے شروع کیا جاتا ہے اور خدا کی تعریف کے ساتھ ہی ختم کیا جاتا ہے اور یہ بھی کوثر کا نتیجہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ جو رب العلمین ہے اور یہ خیر کثیر میں سے ہے کہ اسلام میں اس کثرت کے ساتھ تو حید کا وعظ کیا جاتا ہے۔ اور شرک کی نفی پر تقریریں کی جاتی ہیں ۔ کیا تو نے ایسا کوئی بیان کسی کتاب یا کسی دیوان میں دیکھا ہے۔ پھر کلمہ توحید کو دیکھو لا اله الا اللہ کوئی معبود قابل پرستش اللہ کے سوائے نہیں ۔ کیا اس کلمہ کے بعد کسی مومن کے دل میں کوئی شرک باقی رہ جاتا ہے۔ کیا اس کی نیت اور قصد کے درمیان کوئی ایسی بات باقی رہ جاتی