حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 397
حقائق الفرقان ۳۹۷ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ وہ نہر موتیوں پر اور یاقوت پر جاری ہے۔ اس کی مٹی کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے۔ اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے۔ اور نافع بن ارزق نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کوثر کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے جو کہ بہشت کے وسط میں ہے اور اس کے ارد گرد موتیوں کے اور یاقوت کے خیمے ہیں۔ اس میں بیویاں اور خدام ہیں۔ نافع نے کہا کہ اہلِ عرب ان معنوں سے واقف ہیں؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہاں واقف ہیں۔ کیا آپ نے حسان ابن ثابت کا یہ شعر نہیں سنا۔ ترجمه شعر: اور خدا نے اسے کوثر عطا کیا ہے۔ بڑا کوثر جس میں نعمتیں اور بھلائیاں ہیں ۔ لفظ کوثر کثرت سے نکلا ہے اور اس کے معنے ہیں۔ بہت ساری چیز ۔ بہت زیادہ ۔ کمیت شاعر کہتا ہے۔ اے ابن مروان تو کثیر ہے اور طیب ہے۔ اور تیرا باپ بہت بڑھی ہوئی فضیلتوں والا تھا۔ بزاز نے اور دوسروں نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ کعب بن اشرف ایک دفعہ مکہ میں آیا تو قریش نے اسے کہا کہ تو ہمارا سردار ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا اس المنصبر المنبتر کی طرف وہ گمان کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے۔ حالانکہ ہم وہ ہیں جو لوگوں کو حج کراتے ہیں اور لوگوں کو پانی پلاتے ہیں اور لوگوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں ۔ کعب بن اشرف نے اس سے اچھے ہو اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ - کہا کہ نہیں تم م اس اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار سے باقی تفسیر اس طرح سے ہے کہ ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کی ہے۔ کہ کوثر کے معنے ہیں ۔ قرآن شریف ۔ اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ کوثر اس کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اور خیر اور قرآن شریف عطا کیا تھا اور ابن ابی حاتم اور حاکم اور ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی کتاب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ جب سورہ کوثر