حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 380
حقائق الفرقان ۳۸۰ سُورَةُ الْمَاعُونِ آیت شریفہ فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَ میں ف سبب کے لئے ہے۔ کسی کا یتیم کو دھکے دینے کا فعل اس کے لئے مکتب دین ہونے کا سبب ہو جاتا ہے۔ اور اس میں ذلک کا اشارہ تحقیر کے واسطے ہے۔ اور علت حکم کے بتانے کے لئے اور موصول صلہ کی تحقیق کے لئے ۔ تدمع کے معنے ہیں ۔ دفع کرتا ہے۔ جیسا کہ ابوطالب کے شعر میں ہے۔ جس کے معنے ہیں : یتیم کو اس کا حق تقسیم کرتا ہے۔ اور امراء کی خاطر غرباء کو دھکے نہیں دیتا۔ اور یتیم کا حق مارتا ہے۔ یہ ابن عباس کا قول ہے۔ اور قتادہ کا قول ہے کہ یتیم پر قہر کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے یہ اس شریر کی بداعمالی کیسی عجیب ہے کہ کھانے کھلانے اور امن دینے کے بدلے دھکے دیتا ہے۔ يَحُضُّ کے معنے ہیں کہ دوسرے کو اس امر کی ترغیب دیتا ہے کہ محتاج کو کھلائے اور دراصل سب کو خدا تعالیٰ کھانا کھلاتا ہے۔ وَيْلٌ ۔ اس وادی کا نام ہے جو دوزخیوں کی پیپ سے بہ کر نکلے لگی ۔ ساھون کے لفظ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ جو نمازوں کے اوقات میں تاخیر کرتے ہیں اور ابن عباس اور مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ ساھون سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز کے تارک ہیں اور وہ منافق ہیں ۔ اسی سبب سے کہا گیا کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ اور نصف مدنی ہے۔ اور ساہ کے معنے ہیں لہو کیا۔ ریا کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنے اچھے عمل لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔ ماعون منفعت کو کہتے ہیں۔ پس اس پانی سے منع کرنا جو بادلوں سے آتا ہے۔ ماعون ہے عبدالراعی نے ایک شعر میں کہا ہے۔ وہ قوم جو اسلام پر ہے۔ انہوں نے کبھی ماعون سے منع نہیں کیا اور نہ کبھی کلمہ لا الہ الا اللہ کو ضائع کیا ہے۔ یہاں ماعون سے مراد اطاعت اور زکوۃ ہے۔ اور حضرت علی نے فرمایا ہے کہ ماعون سے مراد زکوۃ ہے اور صدقہ مفروضہ ہے۔ یہ ابن مسعود اور ابن عمر کی روایت ہے۔ اور ماعون ایسی متاع کو بھی اے ”نصف مکی ہے ہونا چاہیے۔ سہو کا تب سے نصف کا لفظ رہ گیا ہے۔