حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 374
حقائق الفرقان ۳۷۴ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ جاری ہوا کہ آج تک تمام جہان کے لوگ اس کا پانی پیتے ہیں۔ خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں ہوں تجھ پر اے خدا کے خلیل ۔ اے نبیوں کے باپ اور ہزاروں ہزار برکتیں اور رحمتیں تجھ پر ہوں۔ اے عورتوں میں ایک بے نظیر عورت ، مصر کی شاہزادی اور ابراہیم کی بیوی اور اسمعیل کی ماں ۔ کیا ہی خدا رسیدہ تیرا دل تھا کہ تو نے خدا کے حکم کی تابعداری میں اپنے بڑے بھاری امتحان کو اپنے سر پر قبول کیا کہ اگر وہ امتحان پہاڑ پر پڑتا تو پہاڑ اس کے بوجھ سے شق ہو جاتا۔ بے شک تو ہی اس قابل تھی کہ تیری اولاد میں سے نبیوں کا سردار محمد پیدا ہوتا ۔ تیری اس مضطرا نہ دوڑ کی یادگار میں آج تک لاکھوں انسان مختلف بلاد سے آ کر تیرے قدم بقدم دوڑتے اور خدا کی حمد کرتے ہیں۔ ایک ابراہیم کے اس گھرانے کی تاریخ خدا تعالی کے دلدادہ اور مقبول بندوں کی مثال میں ایسی پر درد ہے کہ دلوں کی کثافت کو دور کرتی اور انسان کو خدا کے نزدیک لا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس طرح کی قربانی کرنے والے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔ چول شود بخشایش حق بر کسے دل نمی ماند به نیایش بسے خوشترش آید بیابان تپاں پیش از مردن بمیرد حق شناس تا در و ناله زبهر دلستاں زینکه محکم نیست دنیا را اساس ہوش کن ایں جائیکہ جاتی فناست با خدا می باش چوں آخر خداست زہر قاتل گر بدست خود خوری من چسال دائم که تو دانشوری ہیں کہ ایں عبداللطیف پاک مرد چوں پئے حق خویشتن برباد کردے لے جب کسی پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تو پھر اس کا دل دنیا میں نہیں لگتا۔ اس کو تپتا ہوا صحرا پسند آتا ہے تا کہ وہاں اپنے محبوب کے حضور میں گریہ وزاری کرے۔ عارف انسان تو مرنے سے پہلے ہی مر جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی بنیاد مضبوط نہیں ہے۔ خبردار ہو کہ یہ مقام فانی ہے۔ باخدا ہوجا کیونکہ آخر خدا ہی سے واسطہ پڑتا ہے۔ اگر تو خود ہی مہلک زہر کھالے تو میں کیونکر خیال کروں کہ تو عقل مند ہے۔ دیکھ کہ اس پاک انسان عبداللطیف نے کس طرح سے خدا کے لئے اپنے تئیں فنا کر دیا۔