حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 356 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 356

حقائق الفرقان ۳۵۶ سُورَةُ الْفِيلِ اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ - ترجمہ کیا ( ان کو حملہ سے قبل ہلاک کر کے ) ان کے منصوبہ کو باطل نہیں کر دیا۔ تفسیر۔ تَضْلِیل کے معنے تدبیر کے اکارت ہونے کے ہیں ۔ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ (محمد : ۲) سورة محمد کی اس آیت اور آیت بالا دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۴۳) وَ أَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ - ترجمہ اور ان پر ٹھنڈ کے ٹھنڈ پرندوں کے بھیجے تفسیر ابابیل۔ ڈاروں کے ڈار تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۸۸) ابابیل کے معنے جھنڈ کے جھنڈ ۔ یہ لفظ جمع ہے۔ واحد اس کا نہیں ہوتا بعضوں نے ابول ابيال اور انبالہ اس کا واحد قرار دیا ہے۔ غرضیکہ ابابیل کے معنے پرے باندھ کر قطار در قطار آنے والے جانوروں کے ہیں۔ عرب کہا کرتے ہیں جَاءَتِ الْخَيْلُ آبَابِيلَ مِنْ هُهُنَا وَ مِنْ هَهُنَا یعنی گھوڑوں کا لشکر قطار باندھ کر اس طرف سے اور اُس طرف سے آ پہنچا۔ ♡ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۳) ۵ - تَرْمِيهِمُ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِيلٍ - ترجمہ ۔ جو ان پر پتھر کی کنکریاں پھینکتے تھے۔ تفسیر۔ سجیل کے معنے سخت کنکری کے ہیں ۔ سنگ اور گل سے اس لفظ کو مرکب جنہوں نے کہا ہے غلطی کی ہے۔ عربی جیسے وسیع اور بامعنی زبان کو اس طور پر مرکب کرنے کی کیا ضرورت جس مقام پر یہ شکر ہلاک ہوا ۔ وہ مزدلفہ اور مٹی کے درمیان کی جگہ ہے ۔ اب بھی حاجی لوگ رمی جمار کے لئے اسی میدان سے کنکریاں چن کر ساتھ لے آتے اور ان سے رمی جمار کرتے ہیں ۔ غالباً علاج فاسد با فسد اس کا مطلب ہو۔ سجیلِ اِسْجَالُ سے مشتق ہے۔ اِسجَال اور ارسال ایک معنی ہیں ۔ بعضوں کی تحقیق ہے کہ جن کفار پر وہ کنکریاں گرتی تھیں۔ ان کو چیچک نکل آتی تھی۔ لے ان کے اعمال اکارت گئے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۳)