حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 337
حقائق الفرقان جو سنوار اور اصلاح کے خلاف ہو۔ ۳۳۷ سُوْرَةُ الْعَصْرِ سوم ۔ دوسروں کو آخری دم تک بتا کید حق بتاتے رہیں اور ہر دم کو نفس واپسیں یقین کر کے بطور وصیت حق پہنچا دیں ۔ چہارم ۔ ان سچائیوں صداقتوں پر عمل درآمد کرانے میں کوشش کریں کہ وہ دوسرے لوگ بھی بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر مضبوط رہنے میں استقلال کریں۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸، مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه (۴) میرے دوستوں نے مجھے کچھ وعظ کہنے کے لئے فرمائش کی ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی توفیق دی ہے کہ تم لوگوں کو کچھ سنا دوں ۔ میں اتر ابھی اسی غرض سے ہوں کہ کوئی آدمی کوئی بات سن لے اور اللہ تعالیٰ نفع دے۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - وَالْعَصْرِ - إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ - إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : ۱ تا ۴) یہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے اور میں نے اسی نظارہ پر اس کو پڑھا ہے کہ اس میں عصر کا ذکر آتا ہے۔ یہ وقت عصر کا ہے اور دن کا آخری حصہ ہے اور میں اس سورہ شریف کو عصر کے وقت شروع کرتا ہوں ۔ اس نظارہ نے مجھے ادھر ہی متوجہ کر دیا کہ شاید اتنے وقت میں پوری ہو جاوے جو سورج غروب ہو۔ اس سورۃ کے ابتدا میں عصر کا لفظ آیا ہے۔ عصر مطلق زمانہ کا نام ہے۔ ہماری زبان میں بھی یہ لفظ ان معنوں پر بولا جاتا ہے۔ فلاں میرا ہمعصر ہے۔ اخبار نویس بھی یہ لفظ بولتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے عصر نے یہ لکھا ہے۔ غرض زمانہ کو بھی عصر عصر کے معنی : کہتے ہیں ۔ پھر عصر نچوڑنے کو کہتے ہیں ۔ اني ارينِي أَعْصِرُ خَمْرًا ( يوسف : - ۳۷) عصر اس حصہ کو کہتے ہیں جو ظہر کے بعد نماز کے لئے مقرر ہے۔ یہ وہی وقت ہے جس کی ابھی نماز پڑھی ہے۔ پس عصر کے تین معنی ہیں ۔ زمانہ، نچوڑ نا اور بعد ظہر نماز کا وقت ۔