حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 300
حقائق الفرقان ٣٠٠ سُوْرَةُ الْبَيِّنَةِ قرآن کریم تمام انبیاء کی پاک باتوں اور کتابوں کے مجموعہ کا خلاصہ ہے فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ قرآن کریم سب کتابوں کا محافظ ہے اس میں دلائل کو اور زیادہ کر دیا ہے۔ ( بدر جلد ۱۲ نمبر ۳۳٬۳۲٬۳۱ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۱۳ ء صفحه (۴) ساری مضبوط تعلیمات اور ہدایات جامع کتاب حضرت قرآن - آن ہے جس نے تمام اگلی صداقتوں کو بھی بہتر سے بہتر اور عمدہ سے عمدہ رنگ میں فرمایا ہے۔ الفضل جلد نمبرے مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۱۳ ء صفحہ ۱۵) رووو قرآن کریم نے دعوی کیا ہے فِيهَا كُتب قيمة ۔ جو کتاب دنیا میں آئی اور جو اس میں نصیحتیں ہیں ان تمام کا جامع قرآن ہے۔ باوجود اس جامع ہونے کے ایک ایسی زبان میں ہے جو ہر ایک ملک میں بولی جاتی ہے۔ الفضل جلد ا نمبر ۲۶ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۱۵) -۵- وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا ال وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتٰبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ - ترجمہ ۔ اور اہل کتاب نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس آچکی کھلی دلیل ۔ تفسیر حکم و عدل کی بات کو بھی لوگ بغيا بَيْنَهُمْ ۔ (البقرہ:۲۱۴) کی وجہ سے نہیں مان لیا کرتے۔ آیت شریفہ میں دو اگلی نظیریں موجود ہیں ۔ اہلِ کتاب نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیشتر بھی بینہ آنے پر تفرقہ کیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کے تفرقہ کو تو نظیر ہی اگلے تفرقہ کی بتلا یا ہے۔ إِذا تلی فَتَقَلَّت۔ جو دو نظیریں موجود ہیں تو تیسری نظیر کیوں نہ قائم ہو؟ یہ اختلاف نبی کی صداقت کی دلیل ہے۔ نبی مسلمات کو ماننے کے لئے نہیں آیا کرتے۔ بلکہ کچھ اپنی منوانے کے لئے رو آتے ہیں۔ قرآن شریف میں ۱۱۴ کتب قیمہ ہیں۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ اگست ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۳۸٬۳۳۷) به وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُ اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّکٰوةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ - وَيُقِيمُوا ترجمہ اور ان کو تو یہی حکم دیا گیا کہ اللہ ہی کی عبادت کریں خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے لے آپس کی ضد سے۔