حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 287 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 287

حقائق الفرقان ۲۸۷ سُوْرَةُ الْعَلَقِ ۱۰ تا ۱۵ - اَرَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى - أَرَعَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى - أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوى - اَرَعَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلَّى - أَلَمْ يَعْلَمُ بِأَنَّ اللَّهَ یری ۔ ترجمہ۔ تو نے اس شخص کو دیکھا جو روکتا ہے۔ بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ بھلا تو دیکھ تو سہی اگر یہ شخص ہدایت پر ہوتا ۔ اور تقویٰ کا حکم کرتا ( تو کیا اچھا ہوتا ) ۔ کیا تو نے دیکھا کہ اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی ( تو اب کیا حال ہو گا ) ۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے (اس کی بُری حرکتیں )۔ تفسیر ادویت فرما کر ایک ہی سیاق سے اپنے نبی اور مخالف کو مخاطب فرمایا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۴) ١٦ - كَلَّا لَبِنْ لَّمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ - ترجمہ۔ وہ سن رکھے کہ اگر وہ باز نہ آئے گا۔ تفسیر۔ سطع کے معنے زورسے کھنچے اور کھیلنے کھینچنے اور گھیسٹنے کے ہیں۔ ناصية پیشانی اور مقدم رأس کے بال ، غیظ و غضب کے وقت پیشانی پر بل ڈال کر نہایت ڈراؤنی شکل سے انسان اس کو گھر کتا ہے۔ جس کو مغلوب کرنا چاہتا ہے۔ یہ حرکت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابو جہل نے کعبہ میں کی تھی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کیا تھا۔ اس لئے یہ پیشینگوئی اس کے حق میں بدر کے دن پوری ہوئی کہ ناصیہ سے پکڑ کر گھسیٹ کر گڑھے میں اس کی لاش کو ڈال دیا گیا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۵،۳۳۴) ۱۸ ۱۹ - فَلْيَدُعُ نَادِيَهُ - سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ - ترجمہ ۔ چاہئے کہ وہ بلا لیں اپنے ہم نشینوں کو ۔ ہم بھی اب بلائے لیتے ہیں آتشی فرشتوں کو ۔ تفسیر۔ نَادِی سے اہل نادی مراد ہیں اور نادی کے معنے مجلس کے ہیں۔ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَی وَ تَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَر (العنكبوت : ۳۰) مکہ کے دارالندوہ کو اس لئے نادی کہا کہ اس میں لے اور کرتے ہوا اپنی مجلس میں نا شائستہ حرکتیں ۔