حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 280
حقائق الفرقان ۲۸۰ سُورَةُ الدِّينِ اللہ تبارک و تعالی دوسری قوم کو منتخب فرماتا ہے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل اور بنی قیدار کا حال ہوا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ اگست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۲) تا ۹ - إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ - فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ - أَلَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَكِمِينَ - ترجمہ۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے تو ان کے لئے بے انتہا اجر ہے۔ ( تو اے آدمی ) ان سب باتوں کے بعد دین میں تجھے کون جھوٹا سمجھے یا دین کی تکذیب پر کونسی چیز تجھے آمادہ کرتی ہے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ۔ تفسیر۔ یہ استثناء بڑا ضروری تھا اور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ نئی نبوت کے قائم ہونے کے وقت پرانے نبی کے متبعین اگر موجودہ زمانہ کے مرسل کو بھی قبول کر لیں گے ۔ تو ان کا اجر ممنون یعنی منقطع نہ ہو گا بلکہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے کہ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِه (الحدید : ۲۹) یعنی دوہرے اجر ملیں گے۔ اگلے بھی اور پچھلے بھی ۔ معنے دین کے جزا سزا کے ہیں ۔ بَعْدُ بِالدِّینِ سے یہ مطلب ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔ جس طرح کہا کرتے ہیں کہ كَمَا تُدِينُ تُدَان یعنی جس طرح تم ہمارے ساتھ معاملہ کرو گے اسی طرح ہم بھی تم سے کریں گے ۔ سورہ شریفہ بہت چھوٹی ہے۔ مگر ایک ایک لفظ سے اشارات یہ پائے جارہے ہیں کہ انتقال نبوت بنی اسرائیل سے بنی اسمعیل میں جو ہوا۔ تو حق اور حکمت کے ساتھ ہوا۔ بے وجہ نہیں ہوا۔ طبیب نے نسخہ تبدیل کیا تو سوچ سمجھ کر ہی کیا۔ فَمَا يُكَذِّبُكَ - اب اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری تکذیب سے ان کو کیا فائدہ؟ جبکہ جزا سزا، یا یوں کہو کہ مرض کی دوا موافق طبیعت کے ملی ہے۔ سورہ شریفہ کے مطلع میں تمہیدا تین کو زیتون پر مقدم کر کے ذکر فرمایا تھا مؤخر کرنے میں ۔ تین ، سینین ، بلد الامین، مقفہ بھی ہو جاتا مگر نہ کیا وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ زیتون سے