حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 277 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 277

حقائق الفرقان ۲۷۷ سُورَةُ الدِّينِ عیسائیوں کے اعتراض اگر چہ یہ بات نہایت صفائی سے ظاہر ہے کہ وادی حجاز اور وادی فاران دونوں ایک ہیں ۔ اور اسمعیل کی اولاد کے ٹوٹے پھوٹے کھنڈر اس کی گواہی دے رہے ہیں ۔ مگر با ایں ہمہ عیسائی اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور موقع فاران کی نسبت مفصلہ ذیل تین رائیں قرار دیتے ہیں۔ ا۔ یہ کہ وہ اس وسیع میدان کو جو بیر شبع کی شمالی حد سے کوہ سینا تک پھیلا ہوا ہے۔ فاران کہتے ہیں ۔ ۲۔ قادیش جہاں ابراہیم نے ( بیر شبع ) کھودا اور فاران ایک ہیں ۔ ملی ہیں ۔ فاران اسی وادی کا نام ہے جو سینا سے غربی نشیب پر ہے ۔ جہاں قبریں عمارتیں اب جواب ا۔ بتاؤ یہاں اسمعیل اور اس کی صلبی اولا د کب آباد ہوئی ؟ ۲ - کتاب ۳_۱۳ - ۲۵ و ۲۶ وہ سردار کنعان کو دیکھ کر پھرے تو بیابانِ فاران میں سے قادیش میں پہنچے ( قادیش شمالی حد فاران کی ہے ) یادر ہے اس آیت کی اصل عبری عبارت یہ ہے۔ اِل مِن بَر نے فَارَانِ قَادَشِيه لفظی ترجمہ طرف وادی فاران کے بہ نیل مرام ۔ قادیش کے معنے ہائل کے بھی ہیں دیکھو تر جمہ انقلس ۔ فاران تین ہیں ۔ ایک حجاز میں ۔ دوسرا طور یا سینا کے پاس تیسر اسمرقند میں ۔ سمرقند والا فاران مبحث سے خارج ہے۔ اور جو فاران طور یا سینا کے قرب میں واقع ہے۔ وہ فاران نہیں جو ابراہیم کے وقت تھا۔ وہ نہیں جس کا تو رات میں ذکر ہے۔ وہ نہیں جہاں ہاجرہ نے اسمعیل کے ہمراہ بیر شبع میں راستہ گم کر کے اقامت کی اور وہ نہیں جہاں ابتداء اسمعیل کی اولاد آباد ہوئی ۔ وہ نہیں جہاں سے بعد سعیر خدا نے ظہور کیا۔