حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 257
حقائق الفرقان ۲۵۷ سُوْرَةُ الَّيْلِ یه فتوحات دنیوی آخرت کے لئے گواہ ٹھہریں۔ ١٨ - وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۰) ترجمہ ۔ اور اس سے ہٹایا جائے گا بڑے متقی کو۔ ۔ تفسير - الاثقی سے مراد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں۔ جن کی مالی خدمات کا ذکر اس طور پر ہے کہ قرآن شریف اور حدیث نبوی علیہ الصلوۃ والسلام دونوں آپ کی اس صفت کے بیان کرنے میں متفق اللفظ واللسان ہیں۔ اور اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ کسی خاص سبب کا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۰) ١٩ - الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى - ترجمہ ۔ جو اپنا مال دیتا ہے تا کہ اپنے نفس کو پاک بنائے۔ مجھے۔ تفسیر ۔ یوں تو صحابہ میں سے ہر ایک نے بقدر اپنی طاقت اور وسعت کے عشرت کے ایام میں نے خدمات کیں ۔ مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مالی خدمات کی نسبت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے مَا نَفَعَنِي مَالُ اَحَدٍ قَط مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بکر یعنی جس قدر ابی بکر کے مال نے مجھے نفع پہنچا یا اس قدر کسی اور کے مال نے مجھے نفع نہیں پہنچایا اور یہ انفاق فی سبیل اللہ آپ کا محض لوجہ اللہ تھا۔ کسی کے احسان کا بدلہ اتارنے کے طور پر نہیں تھا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۸ را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۰) ۲۰ تا ۲۲ وَ مَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَ لَسَوفَ يَرْضَى ترجمہ ۔ اور اس آدمی پر کسی کا کوئی احسان نہیں جس کا بدلہ اتارا جائے۔ لیکن وہ اپنے رب عالی شان کی خوشنودی کے لئے دے رہا ہے۔ وہ ضرور خوش ہوگا۔ تفسیر ۔ ان ہر سہ آیات کے ترجمہ میں صرف اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ فَمَا أَشْبَهَ اللَّيْلُ بِالْبَارِحَةِ یعنی کل کی رات کو جو گزرگئی ۔ آج کی رات سے بہت شدید مشابہت ہے۔ ربه الاعلی کا