حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 251 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 251

حقائق الفرقان ۲۵۱ سُوْرَةُ الَّيْلِ 66 جہاں قرآن کریم کسی مطلب پر قسم کو بیان کرتا ہے۔ وہاں جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے وہ چیز قانون قدرت میں قسم والے مضمون کے واسطے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے۔ اور یہ قسم قدرتی نظاروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوگا۔ مثلاً إِنَّ سَعِيكُمْ کشتی الح ایک مطلب ہے جس کے معنے ہیں ”لوگو! تمہارے کام مختلف ہیں اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں ۔ قرآن مجید اس مطلب کو قانون قدرت سے اس طرح ثابت کرتا ہے۔ وَاليْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى - وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى - کیا معنی؟ رات پر نظر کرو۔ جب اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے۔ پھر دن پر نظر ڈالو ۔ جب اس نے اپنے انوار کو ظاہر کیا ۔ پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بناوٹ پر غور کرو اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہو گا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ الگ اور ان کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں ۔ ( تصدیق براہین احمد یہ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۶۴،۱۶۳) دھرم پال کے قسموں پر اعتراض کے جواب میں فرمایا: وو اگر قسم ہنسی کی بات اور بری ہے۔ تو جو بجروید بھاش چھٹا باب منتر بائیس میں بانی آریہ سماج نے لکھا ہے وہ تو ضرور رڈ کے قابل ہے ۔ ” ہے ( ورن) نیا کر نیوالے سبھا پتی ( منصف راجہ ) کئے ہوئے میں نیا اگھنا نمار نے یوگ گئو آدی پشٹوں کی شپت ( قسم ۔ سوگند ) ہے۔ اتی اسی پر کار ( اسی طرح) جو آپ کہتے ہیں اور ہم لوگ بھی شیام ہی شیت کرتے ہیں آپ بھی اس پر تکیا ( قانون ) کو مت چھوڑیئے اور ہم لوگ بھی نہیں چھوڑیں گے غور کرو! گنوادی پیشنوں میں کسی قدر گائے، بیل ، ہرن ، بکری ،اونٹ ،سؤر ، کوے ، مرغ، چیل ، کیڑے مکوڑے داخل ہیں ۔ انصاف کرو اور پھر سوچو !! وہ جو منوجی اور بھرگ جی کی جامع سنگھتا میں برا بول بولا ۔ جس نے کہا اور ویدک قانون بتایا دیکھو منوجی ۸ - ۸۸ گئو بیج اور سونا کی قسم اور سونا کی قسم دیگر ویشیہ سے پوچھے منو ۸ ۱۰۹ میں ہے۔ سوگند کے وسیلہ سے اصلی بات کو دریافت کرے اور کیا غلط کہا جو منو ۸۔ ۱۱۰ میں ہے۔ دیوتا اور بڑے بڑے رشی لوگوں نے کام کے واسطے سو گند کھائی ہے اور بسوا متر کے جھگڑے میں بششٹ رشی نے پیون کے بیٹے سدامان راجہ کے رو بر وقت نے سلامان راجہ کے رو برو قسم کھائی تھی ۔ ا نہ مارنے کے لائق گائے وغیرہ جانوروں کی ۔