حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 244

حقائق الفرقان ۲۴۴ سُورَةُ الشَّمْسِ ه دن کی طرح اپنے تئیں بکمال صفائی ظاہر کر سکتا ہے اور ساری خاصیتیں دن کی اپنے اندر رکھتا ہے۔ اندھیری رات سے بھی انسان کامل کو ایک مشابہت ہے کہ وہ باوجود غایت درجہ کے انقطاع اور مبتل کے جو اس کو منجانب اللہ حاصل ہے۔ بحکمت و مصلحت الہی اپنے نفس کی ظلمانی خواہشوں کی طرف بھی کبھی کبھی متوجہ ہو جاتا ہے یعنی جو جو نفس کے حقوق انسان پر رکھے گئے ہیں۔ جو بظاہر نورانیت کے مخالف اور مزاحم معلوم ہوتے ہیں جیسے کھانا، پینا، سونا اور بیوی کے حقوق ادا کرنا یا بچوں کی طرف التفات کرنا یہ سب حقوق بجالاتا ہے اور کچھ تھوڑی دیر کے لئے اس تاریکی کو اپنے لئے پسند کر لیتا ہے۔ نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے بلکہ اس وجہ سے کہ خداوند و دند علیم و حکیم اس کو اس طرف توجہ بخشتا ہے تا روحانی تعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر اُن مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جیسا کہ کسی کا شعر ہے۔ چشم شهباز کار دانان شکار از بهر کشادن ست گردوخته اند سواسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطر اور گدازش اور ہم وغم کے غلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں۔ تو پھر جسم ناتواں ان کا روح کی رفاقت کے لئے سورج بحکمت کاملہ الہی سات سو تیس تعینات میں اپنے تئیں متشکل کر کے دنیا پر مختلف قسموں کی تاثیرات ڈالتا ہے اور ہر یک متشکل کی وجہ سے ایک خاص نام اس کو حاصل ہے اور یکشنبہ ، دوشنبه، سه شنبه و غیره در حقیقت باعتبار خاص خاص تعینات ولوازم و تاثیرات کے سورج کے ہی نام ہیں ۔ جب یہ لوازم خاصہ بولنے کے وقت ذہن میں ملحوظ نہ رکھے جائیں اور صرف مجرد اور اطلاقی حالت میں نام لیا جائے تو اس وقت سورج کہیں گے۔ لیکن جب اسی سورج کے خاص خاص لوازم اور تاثیرات اور مقامات ذہن میں ملحوظ رکھ کر بولیں گے تو اس کو کبھی دن کہیں گے اور کبھی رات ، کبھی اس کا نام اتوار رکھیں گے اور کبھی پیر اور کبھی سانون اور کبھی بھادوں ، کبھی اسوج کبھی کا تک۔ غرض یہ سب سورج کے ہی نام ہیں اور نفس انسان بھی باعتبار مختلف تعینات اور مختلف اوقات و مقامات و حالات مختلف ناموں سے موسوم ہو جاتا ہے۔ کبھی نفس زکیہ کہلاتا ہے اور کبھی امارہ کبھی لوامہ اور کبھی مطمئنہ ۔ غرض اس کے بھی اتنے ہی نام ہیں ۔ جس قدر سورج کے۔ مگر بخوف طول اسی قدر بیان کرنا کافی سمجھا گیا۔ منہ ے شاہین کی آنکھ جو شکار کی ماہر آنکھ ہے اگر کبھی وہ بند بھی ہوتی ہے تو کھلنے کے لئے ہی بند ہوتی ہے۔ ہے ا