حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 238 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 238

حقائق الفرقان ۲۳۸ سُوْرَةُ الْبَلَدِ کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ کفار کو شکست ہوگی ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۲۶) ۸۷ - يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًا تُبَدًا - أَيَحْسَبُ أَنْ لَّمْ يَرَةً أَحَدٌ - ترجمہ ۔ وہ کہتا ہے میں نے خرچ کر دیا مال ڈھیروں ۔ کیا اس کا یہ خیال ہے کہ اس کو کسی نے ننگا نہیں دیکھا۔ تفسير يَقُولُ صیغہ مضارع کا ہے۔ حال اور استقبال دونوں پر شامل ہے۔ مگر واقعات کے لحاظ سے مستقبل زمانہ کی طرف زیادہ تر توجہ دلاتا ہے۔ کچھ تو مال مخالفت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : وسلم پر خرچ کر چکے ہیں ۔ اور زیادہ تر اور بھی خرچ کر کے ناکام رہیں گے۔ دوسری جا رہیں گے ۔ دوسری جگہ اسی مضمون کو یوں ادا فرمایا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ (الانفال : ٣٠) ۳۷) أَيَحْسَبُ أَنْ لَّمْ يَرَةَ اَحَدٌ - گزشتہ اَيَحْسَبُ کے ساتھ لَنْ تھا اور اس أَيَحْسَبُ کے ساتھ لَعْ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ کس کی کوششیں راہِ صواب پر ہیں اور کس کی کوششیں راہ خطا پر ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم را گست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۲۶) و تارا - أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ - وَلِسَانًا وَ شَفَتَيْنِ وَهَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ - ترجمہ ۔ کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے ۔ اور اس کو دور استے نہیں بتلا دیئے ( نیکی اور بدی کے ) ۔ تفسیر۔ مکہ غیر ذی زرع مقام تھا۔ اس کا بلد بن جانا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام والد ، حضرت اسمعیل علیہ السلام ولد کی صدق وصواب کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ آنکھوں سے دیکھو کہ یہ کعبہ لے بے شک جو کافر ہیں یہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال تا کہ روکیں اللہ کی راہ سے پھر وہ قریب ہی خرچ کرتے رہیں گے اور وہ ہوگا اُن پر حسرت اور افسوس پھر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔