حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 222
حقائق الفرقان ۲۲۲ ۱۸ - أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ - سُوْرَةُ الْغَاشِيَة ترجمہ ۔ تو کیا نظر نہیں کرتے اونٹوں کی طرف یا بادلوں کی طرف کہ وہ کیسا پیدا کیا گیا۔ تفسیر ۔ اس آیت شریف اور اس کے مابعد کی اور تین آیتوں میں صبر اور استقلال اور مصائب کے وقت یک رنگی کا بیان ہے۔ سب سے پہلے اونٹ کا ذکر فرمایا کہ کس طرح وہ بارکش اور نافع للناس ه وجود ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں: برخوان افلا ینظر تا قدرت ما بینی بكره بشتر بنگر تا صنع خدا بینی در خار خوری قانع، در بارکشی راضی این وصف اگر جوئی در اہل صفا بینی اے على هذا القياس نزول بلا کے وقت اہل صفا آسمان کی طرح مرفوع الاحوال پہاڑوں کی طرح مستقل المزاج اور زمین کی کشادگی کی طرح وسیع الحوصلہ ہوتے ہیں۔ بعض کوتاہ نظر معترضوں نے ابل ، سماء ، جِبَالَ اور ارض ان چار مناظر کو ایک جگہ مذکور دیکھ کر اعتراض کیا کہ کلام بے ربط ہے۔ کوئی بات آسمان کی ہے تو کوئی زمین کی۔ ایک جانور ہے تو دوسرا پہاڑ ۔ یہ اعتراض قلت تدبر اور سوء فهم کی وجہ سے ہے۔ ورنہ مناسبت ایسی تام اور ابلغ ہے کہ نظارہ قدرت میں اس سے بڑھ کر جامع الصفات چیزیں دوسری ہیں نہیں جو فہمائش کے لئے پیش کی جاتیں ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۴) ۲۲- فَذَكِّرُهُ إِنَّمَا انْتَ مُذَكِّرُ - ترجمہ ۔ پھر تو نصیحت کرتارہ کیونکہ اس کے سوا نہیں کہ تو نصیحت کرنے والا ہی ہے۔ تفسیر میں ایک دفعہ قرآن پڑھ رہا تھا۔ کسی تذکرے میں بات پر بات چلی۔ تمام بھلائیوں اور برائیوں پر جب ہمارے فطری قوی گواہی دیتے ہیں تو انبیاء اور رسل کی ضرورت کیا تھی ۔ اس وقت یہ آیت سامنے کھڑی پکار رہی تھی۔ تم نہیں سمجھتے۔ تمہارے نبی کے حق میں البی کلام اور میرا متکلم کیا کہتا ہے۔ ا اس آیت أَفَلَا يَنْظُرُونَ کو پڑھو تو ہماری قدرت تمہیں نظر آئے گی ۔ اونٹ کے کوہان کو دیکھو گے تو خدا کی تو ہماری کے صناعی نظر آئے گی۔ کانٹوں کو کھا کر بھی قناعت کرتا ہے اور وزن اٹھا کر بھی راضی رہتا ہے اگر تم تلاش کرو گے تو یہ خوبی تمہیں اہل صفا میں نظر آئے گی ۔