حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 8
حقائق الفرقان A سُوْرَةُ نُوحٍ چاہتے ہیں کہ اور مدت زندہ رہیں ۔ پھر انسان چاہتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ پھر چاہتا ہے کہ اسے مال ملے ۔ پھر چاہتا ہے کہ اس کے دشمن ہلاک ہوں تا کہ وہ امن سے زندگی بسر کرے۔ یہ سب انسان کا فطری تقاضا ہے۔ اور ان کو پورا کرنے کا نسخہ بتلانے کے واسطے اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان رسول دنیا میں آئے ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ البرکات ، ایسے ہی شاندار نبی حضرت نوح علیہ السلام اپنے زمانہ میں تھے اور انہوں نے کامیابی کا جو نسخہ اپنی قوم کے سامنے پیش کیا اس کا ذکر اس سورہ شریف میں ہے۔ عذاب کے بھیجنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول دنیا میں بھیجا تا کہ وہ اس کی بات مان کر عذاب سے بچ جاویں۔ انا۔ ہم نے ہی حضرت نوح کی رسالت کی صداقت کو لفظ انا کی تاکید کے ساتھ ظاہر کیا ہے اس میں اشارہ ہے کہ جیسا کہ نوح کے مخالفین بچ نہ سکے ۔ ایسا ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی کریم رسول خاتم النبین سید نا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مخالفین بھی نہ بچیں گے۔ علیہما الصلوۃ والسلام ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱ امورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۸۸) أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ - ترجمہ - عبادت کرو اللہ کی اور اسی کو سپر بناؤ اور میرا کہا مانو۔ تفسیر عذاب الہی سے بچنے کے واسطے تین گر حضرت واسطے تین گر حضرت نوح نے پیش کئے جو ہمیشہ سے تے ہیں ۔ اعْبُدُوا الله - خدائے تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اتَّقُوہ ۔ اس سے ڈرو۔ سچے ہوتے چلے آتے اطِیعُونِ ۔ میری پیروی کرو۔ اطِيعُون کا لفظ ان خیالات کے لوگوں کا رد کرتا ہے جن کے نزد یک رسول کی اطاعت ضروری نہیں ۔ اس آیت میں حضرت نوح نے بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمہارے تقوی اللہ کی حقیقت تب متحقق ہوگی ۔ جب تم میری اطاعت کرو۔ یہ اطاعت رسول کے لئے ایک زبر دست دلیل ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۱ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۲۸۸)