حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 140

حقائق الفرقان ۱۴۰ سُورَةُ التَّزِعَتِ ۸،۷ - يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ - تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ - ترجمہ ۔ جس دن لرز نے والی لرزے گی۔ ایک زلزلہ کے پیچھے دوسر ازلزلہ ہے۔ تفسیر۔ زلزلے ہمیشہ آتے رہیں گے۔ ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے که اشراط عظام قبل قیام ساعت جب شروع ہو جاویں گے تو ایسے لگا تا رظہور ہوں گے ۔ جیسے تسبیح کا تا گہ ٹوٹ جانے سے مسئلے تسبیح کے متتابع یکے بعد دیگرے گرنے لگتے ہیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ أَوَّلُ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوْ الدَّابَةُ أَيَّتُعُهُمَا خَرَجَتْ فَالْأُخْرَى عَلَى آثرھا ۔ سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہوگی وہ یا تو طلوع شمس من مغر بہا ہو گی یا خروج دابہ کی ہوگی ۔ جونسی ان میں سے پہلے ظاہر ہو گی دوسری بھی اس کے نقش قدم کے ساتھ ہی شروع ہوگی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ تیرہ سو برس گزرنے کے بعد ظہور ان آیات کا جو تعبیر طلب ہو گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح دُور کی چیز اپنی کیفیت و کمیت میں بسبب بعد مکانی کے اپنی اصلی شکل سے کچھ مغائر معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح سے پیغمبروں کے مکاشفات کا حال ہے کہ پیشگوئیوں میں جو مکاشفات کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہیں ۔ یہ سبب بعد مکانی کے کچھ نہ کچھ تعبیر واقع ہو جاتی ہے۔ احکام و اوامر و نواہی کا ایسا حال نہیں ہوتا۔ اب تو کئی قسم کے زلزلے آئے اور متتابع آئے ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/اپریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۵) ا - يَقُولُونَ وَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ - ترجمہ ۔ وہ کہیں گے کیا ہم الٹے پاؤں واپس کئے جائیں گے پہلی حالت پر ۔ تفسیر - الحافِرة - نشان قدم - حفر سم کو کہتے ہیں۔ حفرة گڑھے کے معنے ہیں ۔ مَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ - کیا ہم اپنے نقش قدم پر لوٹ کر پھر اگلی حالت جیسے زندہ انسان ہو جائیں گے؟ (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۵) ۱۵ - فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ - ترجمہ ۔ پھر ایک دم سے وہ سب میدان میں آ موجود ہوں گے۔