حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 97
حقائق الفرقان ۹۷ سُورَةُ الدَّهْرِ خداوندی کو توڑتا ہے کہ راحت ملے ؟ مگر راحت کہاں؟ دیکھو ایک نابکار انسان حدود اللہ کو تو ڑ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے کہ اسے لذت و سرور ملے مگر نتیجہ کیا ہے کہ اگر آتشک اور سوزاک میں مثلاً مبتلا ہو گیا۔ تو بجائے اس کے جسم کو راحت و آرام پہنچاوے ۔ دل کو سوزش اور بدن کو جلن نصیب ہوتی ہے۔ یعنی منکر قانون النبی کو توڑنے والے کو راحت کہاں؟ پھر اس کے لئے اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِينَ۔ انسان کے لئے کیا ہوتا ہے۔ پاؤں میں زنجیر ہوتی ، گردن میں طوق ہوتا ہے جن کے باعث انواع و اقسام راحت و آرام سے محروم ہو جاتا ہے دل میں ایک جلن ہوتی ہے جو ہر وقت اس کو کباب کرتی رہتی ہے دنیا میں اس کا نظارہ موجود ہے مثلاً وہی نافرمان ، زانی، بدکار قسم قسم کے آرام جسمانی میں مبتلا ہو کر اندر ہی اندر کباب ہوتے ہیں اور پھر نہ وہاں جا سکتے ہیں نہ نظر اٹھا کر دیکھ سکتے ہیں اسی ہم و غم میں مصائب اور مشکلات پر قابونہ پا کر آخر خود کشی کر کے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں ہدایت کے منکروں اور بادیوں کے مخالفوں نے کیا پھل پایا۔ دیکھو ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر جنہوں نے اس ابدی راحت اور خوشی کی راہ سے انکار کیا کیا حال ہوا ؟ وہ عمائد مکہ جو ابو جہل ، عتبہ، شیبہ وغیرہ تھے اور مقابلہ کرتے تھے وہ فاتح نہ کہلا سکے کہ وہ اپنے مفتوحہ بلا د کو دیکھتے اور دل خوش کر سکتے ؟ ہرگز نہیں ۔ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے ان کی عزت گئی ، آبرونہ رہی ، مذہب گیا ، اولا د ہاتھ سے گئی ۔ غرض کچھ بھی نہ رہا۔ ان باتوں کو دیکھتے اور اندر ہی اندر کباب ہوتے تھے۔ اور اسی جلن میں چل دیئے۔ یہ حال ہوتا ہے منکر کا۔ جب وہ خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کا انکار کرتا ہے تو بُرے نتائج کو پالیتا ہے اور عمدہ نتائج اور آرام کے اسباب سے محروم ہو جاتا ہے۔ (الحکم جلد ۳ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۸۹۹ء صفحه ۳ تا ۶ ) پھر دوسرے گروہ اما شاکراً کا ذکر فرمایا کہ شکر کرنے والے گروہ کے لئے کیا جزا ہے۔ اِنَّ الابرار يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا - بے شک ابرار لوگ کا فوری پیالوں سے پئیں گے۔ ابرار کون ہوتے ہیں جن کے عقائد صحیح ہوں ۔ اور ان کے اعمال صواب اور اخلاص کے نیچے ہوں اور جو ہر دکھ اور مصیبت میں اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی نارضامندی سے محفوظ رکھ لیں ۔