حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 438
حقائق الفرقان ۴۳۸ سُورَةُ الْحَاقَّةِ روحانی میں مدد دیتا ہے اور ان کو مجاہدات و ریاضتوں میں نصرت کرتا ہے جو مناسبات کے ظہور کے باعث ہوتے ہیں جو ان کے درمیان اور ان نفوس کے درمیان ہوتے ہیں۔ جو ان تک پہنچتے ہیں اور نفس عرش اور عقول مجردہ کی طرح ہوتے ہیں حتی کہ وہ مبدء اول وعلت العلل تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب سالک جذبات الہیہ اور نیم رحمانیہ کو دیکھتا ہے تو بہت سے حجاب قطع کر جاتا ہے۔ اور بعد مقصود و کثرت عقبات و آفات سے نجات پاتا اور نور النبی سے منور ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو واصلین میں داخل کر دیتا ہے۔ اور اس کا وصول و شہود مع رؤیت عجائبات منازل و مقامات کے کامل ہو جاتا ہے۔ اور اہلِ عقل کے لئے ان معارف و نکات کا شعور نہیں ہوتا اور نہ عقل کا ان میں دخل ہو سکتا ہے اور اس قسم کے معانی پر اطلاع پانا مشکوۃ نبوت و ولایت سے میسر ہو سکتا ہے۔ عقل کو ان حقائق سے بو بھی نہیں پہنچتی۔ اور نہ کسی عاقل کی طاقت ہے کہ وہ بجز جذبات البہی اس مقام میں قدم رکھے۔ جب ارواح پاکیزہ کاملہ بدنوں سے جدا ہوتے اور بروجہ کمالِ روحانی میلوں کچھیلوں سے سے حظ و حصہ ۔ پاک کئے جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرش کے نیچے بذریعہ ملائکہ کرام پیش کئے جاتے ہیں۔ پس وہ جدید طور پر ربوبیت النبی و حصہ لیتے ہیں۔ ہیں۔ جو ربوبیت سابقہ سے علیحدہ و مغائر ہوتی ہے اور اس کی رحمانیت سے بھی بہرہ اندوز ہوتے اور حصہ لیتے ہیں جو پہلے رحمانیت سے مغائر ہوتا ہے۔ اور اس کی رحیمیت سے بھی حصہ پاتے ہیں جو اس کی پہلی رحیمیت سے الگ ہوتی ہے اور اس کی مالکیت سے بھی بخرہ پاتے ہیں جو دنیا کے حصہ سے مغائر ہوتی ہے۔ پس اس وقت آٹھ صفات ہو جاتے ہیں ۔ جن کے آٹھ ملائکۃ اللہ باذن احسن الخالقین حامل ہیں کیونکہ ہر صفت کے لئے ایک فرشتہ مؤکل ہے جو اس صفت کے پراگندہ کرنے کے لئے بروجہ تدبیر اور اس کو بر حل خود رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام میں اشارہ فرمایا ہے۔ فَالْمُدَ بِرَاتِ أَمْرًا پس تم غور کرو اور غافل نہ بنو۔ آخرت میں ملائکہ حاملین کا زیادہ ہونا تجلیات ربانیہ و رحمانیہ و رحیمیہ و مالکیہ کے زیادہ تجلیات