حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 393
حقائق الفرقان ۳۹۳ سُوْرَةُ الْمُلْكِ میں جا پڑے اور پانی کی خاصیت آگ میں جا پڑے ۔ تفاوت نقصان کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حق و حکمت میں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ انسان کی تحقیقات میں نقصان ہو۔ ورنہ خدا کے کاموں میں کوئی نقص نہیں ۔ فطور - شق ۔ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۔ بار بار چیزوں کو دیکھو۔ تحقیقات کرو۔ نقص نہ پاؤ گے۔ پھر ۔ پھر غور کرو۔ تمہاری آنکھیں دیکھتے دیکھتے تھک جائیں گی۔ مگر کوئی بھی نقص نہ ملے گا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۵۰۴ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۲۷۰) تو رحمان کی پیدائش میں کوئی تفاوت نہ دیکھے گا ۔ تو اپنی آنکھ کو پھیرا تو کیا تجھے کوئی نقص نظر آتا ہے۔ تَفَاوُت (بخاری) ہر شے میں نسبت ایک قانون پر ہے۔ ( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۷۹) تشحید الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۵) - وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَ جَعَلْنَهَا رُجُومًا لِلشَّيْطِينِ وَ اعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ - ترجمہ ۔ اور ہم نے سامنے والے آسمان کو سجا رکھا ہے چراغوں سے تاروں کے اور اُس کو شیطانوں کے واسطے نشانہ غیب کا ٹھہرا دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ہم نے ان کے لئے دیکتی ہوئی آگ کا عذاب۔ تفسير - سماء الدُّنْيَا - والا آسمان ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس ورلے آسمان کو عجیب در عجیب چراغوں سے روشن کیا ہے اور ان میں ایسے بھی ستارے ہیں جو شریروں کو دور کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور سے جب احکام صادر ہوتے ہیں ۔ تو بڑے فرشتے چھوٹے فرشتوں کو پہنچاتے ہیں ۔ اسی طرح رفتہ رفتہ وہ بات وہاں تک پہنچتی ہے جہاں بادلوں کا طبقہ ہے اور وہاں تک شیطانوں کا دخل ہے۔ کیونکہ ارواح خبیثہ کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔ بعض وہاں تک پہنچتے ہیں جہاں بادلوں کا آسمان ہے۔ شَيْطين منجمین اور کاہن بھی انہیں میں سے ہیں جو کہ رجما بالغیب کرتے ہیں۔ آئندہ کی باتیں بیان کرتے ہیں اور ستاروں کو دیکھ کر تکہ بازیاں کرتے ہیں ۔ یہ ستارے ان کے واسطے تکه بازی کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔ جوتشی اور رمال لوگ ایسا کرتے ہیں۔