حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 379 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 379

حقائق الفرقان ۳۷۹ سُورَةُ التَّحْرِيمِ سے نفرت ہے تو اس کا پینا کیا ضرور۔ معاشرت میں نقص آتا ہے۔ باری تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔ حلال اشیاء کا ترک کرنا اور اس پر حلف کرنا کیوں ۔ ایسے امور میں عورتوں کی رضامندی ضرور نہیں ۔ قسم سے بچ رہنے کے لئے سورہ مائدہ میں کفارے کا حکم ہے اس پر عمل کرو۔ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ میں فَرَضَ ماضی کا صیغہ ہے۔ حال یا استقبال نہیں ۔ یہ زینب کا قصہ اور اس پر آیت کا نازل ہونا بخاری و مسلم وغیرہ حدیث کی اعلیٰ کتابوں میں موجود ہے۔ اور قرآن کی تفسیر یا خود قرآن سے یا لغت عرب سے یا قرآن کی تفسیر صحیح احادیث سے تفسیر کا اعلیٰ درجہ ہے۔ بعض مفسر لوگوں نے زینب کے بدلے میں ماریہ قبطیہ کا نام لیا۔ الا مار یہ بھی رسول خدا کی بی بی ہیں۔ اور ایک بیٹے کی ماں ۔ اس بیٹے کی ماں ہیں جس نے لڑکپن میں انتقال کیا۔ تب بھی کوئی حرج نہیں ۔ الا یہ مفسروں کا قول حدیث کے مقابلہ میں التفات کے قابل نہیں ۔ بلکہ محققین نے ماریہ کے ( فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۲۲ تا ۱۲۵) وجود پر بھی انکار کیا ہے۔ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّاتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَ اَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ انْبَاكَ هذَا قَالَ نَبَّانِي الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ - ترجمہ ۔ اور جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے کوئی بات چپکے سے کہی تھی پھر اُس نے اس کی خبر کر دی اور اللہ نے نبی کو اس کی خبر کر دی تو نبی نے بات میں سے کچھ تو جتا دیا اور کچھ ٹال دیا پھر جب نبی نے اس کو بتلا دیا تو اس نے پوچھا کہ یہ آپ کو کس نے خبر دی۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ کو اس بڑے جاننے والے خبردار نے خبر دی ۔ تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات اپنی کسی بیوی کو کہی تھی۔ اُس نے کسی اور کے آگے ذکر کر دی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ الہام الہی کے معلوم ہو گیا کہ اس بیوی نے اس راز کی بات کو آگے ذکر کر دیا ہے۔ شیعوں نے کہا ہے کہ وہ بات یہ تھی کہ میرے بعد حضرت علی خلیفہ ہوں گے اور سنی کہتے ہیں