حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 377

حقائق الفرقان ۳۷۷ سُورَةُ التَّحْرِيمِ پر بھی قسم کا توڑ نا جائز کر دیا۔ سوم ایسے ناشائستہ فعل میں یعنی لونڈی سے ہمبستر ہوتے رہے اور قسم کے توڑنے میں خدا کو بھی شریک کر کے اجازت دینے والا قرار دیا۔ جواب ۔ غور فرمانے والے ناظرین سنو ۔ عیب گیر پادری صاحب اول تو قرآن سے نکال کر یہ اعتراض نہیں دکھا سکتے بلکہ کسی تفسیر سے۔ سچ ہے قرآن کریم ایسے اعتراضات کا اناجیل کی طرح منشاء نہیں ہو سکتا۔ رہیں تفاسیر سیل صاحب اور راڈویل نے تفاسیر قرآن لکھی ہیں۔ پھر کیا ان تفاسیر کے باعث اسلام یا قرآن یا صاحب قرآن محل اعتراض ہو سکتا ہے۔ دوم ۔ پادری کہتے ہیں حفصہ کی لونڈی ماریہ قبطیہ حالانکہ ماریہ قبطیہ ہمارے سچے اور پاک ہاں نہایت سچے اور نہایت پاک خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد اور سریہ بی بی تھیں۔ ماریہ حفصہ کی لونڈی ہرگز نہیں ہاں ہر گز نہیں ۔ یہ ماریہ قبطیہ وہ ہے جس کے ام ولد بننے سے مصر اور اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کے ساتھ تعلقات پیدا ہوئے ۔ افسوس آپ کو گھر کی بھی خبر نہیں ۔ یہ مقوقس عیسائی تھا۔ زرقانی شرح مواہب۔ پیدا ہوئے ۔ یہ ماریہ وہی ہے جس کی حقیقی بہن حسان کے گھر میں تھیں اور عبد الرحمن بن حسان اُس کے پیٹ کی کے سے پیدا ہوئے۔ مواہب لدنیہ۔ یہ ماریہ وہ ہے جس کے ساتھ شہباء خچری آئی جسے مسلمان دلدل کہتے ہیں۔ پادریو! آپ کے تمام اعتراض کا زور اسی پر تھا کہ ماریہ قبطیہ حفصہ کی لونڈی تھی ۔ جب حفصہ کی لونڈی ہونا ماریہ کا ثابت نہ ہوا تو آپ کی ساری یا وہ سرائی بیہودہ گوئی اُڑ گئی ۔ سوم ۔ پادری کہتے ہیں محمد صاحب نے ایک آیت سورۂ تحریم کی ابتدا میں نازل کر لی۔ پادری لوگ آیت تو نہیں لکھتے صرف اُس کے بدلے یہ اُردو عبارت لکھ دیتے ہیں۔ بیشک قسم توڑ کر لونڈی سے ہمبستر ہوتے رہیے۔ اپنی عورتوں کی خوشنودی نہ چاہیے۔ اعتراض