حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 351
حقائق الفرقان ۳۵۱ سُورَةُ الْجُمُعَةِ یا کیا کیا عذر تراشتا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ یقین دلاتا ہے کہ اس کی آواز سنتے ہی حاضر ہو جانا خیر و برکت کا ا موجب ہے۔ اس میں کوئی خسارہ اور نقصان نہیں ۔ مگر تم کو اس کا علم ہونا چاہیے۔ پس اس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ ہاں فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَ اذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - جب نماز ادا کر چکوتو زمین میں پھیل جاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کولو ۔ اس کا اصل اور گریہ ہے اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرو ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تم مظفر و منصور ہو جاؤ گے۔ خدا کی یا دساری کامیابیوں کا راز اور ساری نصرتوں اور فتوحات کی کلید ہے۔ اسلام انسان کو بے دست و پا بنانا یا دوسروں کے لئے بوجھ بنانا نہیں چاہتا۔ عبادت کے لئے اوقات رکھے ہیں۔ جب ان سے فارغ ہو جاوے پھر اپنے کاروبار میں مصروف ہو۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ ان کا روبار میں مصروف ہو کر بھی یاد الہی کو نہ چھوڑے بلکہ دست به کار دل به یار ہو اور اس کا طریق یہ ہے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے اور دیکھ لے کہ آیا خلاف مرضی مولی تو نہیں کر رہا۔ جب یہ بات ہو تو اس کا ہر فعل خواہ وہ تجارت کا ہو۔ یا معاشرت کا۔ ملازمت کا ہو یا حکومت کا۔ غرض کوئی بھی حالت ہو ۔ عبادت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ کھانا پینا بھی اگر امر الہی کے نیچے ہو تو عبادت ہے۔ یہ اصل ہے جو ساری فتح مندیوں کی کلید ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اصل کو چھوڑ دیا۔ جب تک اس پر عمل درآمد رہا۔ اس وقت تک وہ ایک قوم متمند قوم کی حالت میں رہی۔ لیکن جب اس پر سے عمل جاتا رہا تو نتیجہ یہ ہوا کہ یہ قوم ہر طرح پستیوں میں گرگئی ۔ الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸۷) ے کام میں مصروفیت کے دوران بھی دل یا دالہی میں مشغول ہونا ۔