حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 324
حقائق الفرقان ۳۲۴ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اثر کو قبول کرتی ہیں تو آجکل تصانیف کے ذریعہ جو زہر مشنری گروہ نے پھیلایا ہے۔ اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر رنگ میں فلسفہ، تاریخ ، طب وغیرہ ہر شاخ علم اور ہر کتاب میں مذہب سے مغائرت اور آزادی کا سبق پڑھایا جاتا۔ اور اسلام کی پاک تعلیم پر کسی نہ کسی رنگ میں حملہ کیا جاتا ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم کا جادو کچھ ایسا کارگر ہوا ہے کہ ہر شخص بلا سوچے سمجھے کہ اس کے بچے کو کسی قسم کی تعلیم مفید اور کار آمد ہوسکتی ہے۔ اپنے لڑکوں کو سکول اور کالج میں بھیجتا ہے۔ جہاں حفاظت دین ہے۔ کے اسباب بہم نہیں پہنچائے جاتے ۔ وہاں قسم قسم کی فصیح و بلیغ تقریروں والے اور بڑی بڑی لمبی داڑھیوں والے عجیب غریب باتیں سناتے ہیں اور یورپین اقوام کی ترقیوں اور صناعیوں پر لیکچر دے دے کر نو جوانوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ سیدھے سادھے نوجوان جو اپنی مذہبی تعلیم سے بالکل کورے اور صاف ہوتے ہیں۔ مذہب کو ایک آزادی کی مانع چیز سمجھنے لگتے ہیں اور انسانی ترقیوں کا مانع اسے قرار دیتے ہیں۔ باتوں ہی باتوں میں سمجھا دیئے جاتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض علماء کے سامنے کئے جاتے ہیں تو ان پر کفر کے فتوے جڑے جاتے ہیں۔ ان اعتراضوں کا جو برا اثر پڑتا ہے اس کے متعلق میں ایک قصہ بیان کرتا ہوں ۔ مگر یاد رکھو کہ میں قصہ گو نہیں ۔ بلکہ درددل کے ساتھ تمہیں اسلام کی حالت دکھانی چاہتا ہوں ۔ میری غرض کسی پر نکتہ کے ساتھ تمہیں اسلام کی حالت دکھائی جانتا ہوں۔ میری فرض کسی رکاتہ چینی کرنا نہیں ہے اور نہ ہنسانا مقصود ہے۔ بلکہ اصلیت کا بیان کرنا مد نظر ہے۔ میں ایک بار ریل میں سفر کر رہا تھا۔ جس کمرہ میں میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اسی کمرہ میں ایک اور بڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا۔ ایک اور شخص جو مجھے مولوی صاحب کہہ کر مخاطب کرنے لگا۔ تو اس دوسرے شخص کو سخت بُرا معلوم ہوا اور اس نے کھڑکی سے باہر سر نکال لیا۔ وہ شخص جو مجھ سے مخاطب تھا اس کے بعض سوالوں کا جواب جب میں نے دیا تو اس بڑھے نے بھی سر اندر کر لیا اور بڑے غور سے میری باتوں کو سننے لگا اور وہ باتیں مؤثر معلوم ہوئیں ۔ پھر خود ہی اس نے بیان کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے کیوں سر باہر کر لیا تھا۔ میں نے کہا نہیں اس نے بیان کیا کہ مجھے مولویوں کے نام سے بڑی نفرت