حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 251
حقائق الفرقان ۲۵۱ سُورَةُ الْوَاقِعَةِ ہے اور انہی فرمان کی سمجھ بدوں کسی مز کی اور مطہر القلب کے کسی کو نہیں آتی کیونکہ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - خدا تعالیٰ کا حکم ہے پس کیسی ضرورت ہے امام کی ۔ کسی مزکی کی ۔ میں تمہیں اپنی بات سناؤں۔ تمہارا کنبہ ہے۔ میرا بھی ہے تمہیں ضرورتیں ہیں۔ مجھے بھی آئے دن اور ضرورتوں کے علاوہ کتابوں کا جنون لگا رہتا ہے۔ مگر اس پر بھی تم کو وقت نہیں ملتا کہ یہاں آؤ ۔ موقع نہیں ملتا کہ پاس بیٹھنے سے کیا انوار ملتے ہیں ۔ فرصت نہیں ۔ رخصت نہیں ۔ سنو! تم سب سے زیادہ کمانے کا ڈھب بھی مجھے آتا ہے۔ شہروں میں رہوں ۔ تو بہت سا روپیہ کما سکتا ہوں مگر ضرورت محسوس ہوتی ہے بیمار کو ظهر الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا زمانہ ہے۔ میرے لئے تو یہاں سے ایک دم بھی باہر جانا موت کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ تم شاید دیکھتے ہوگے کہ یہاں کھیت لہلہا رہے ہیں دنیا اپنے کاروبار میں اسی طرح مصروف ہے۔ مگر میرا ایک دوست لکھتا ہے کہ وبا کے باعث گاؤں کے گاؤں خالی ہو گئے ہیں۔ بے فکر ہو کر مت بیٹھو ۔ خدا کے درد ناک عذاب کا پتہ نہیں ۔ کس وقت آ پکڑے۔ غرض تو اس وقت سخت ضرورت ہے اس امر کی کہ تم اس شخص کے پاس بار بار آؤ۔ جو دنیا کی اصلاح کے واسطے آیا ہے۔ رض تم نے دیکھ لیا ہے کہ جو شخص اس زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا ہے ۔ وہ آنکھ نہیں ہے بلکہ علی وجہ البصیرت تمہیں بلاتا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ اشتہاروں اور کتابوں ہی کو پڑھ کر فائدہ اٹھا لو۔ اور انہیں ہی کافی سمجھو۔ میں سچ کہتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہر گز نہیں ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بے فائدہ اپنے وطنوں اور عزیز و اقارب کو چھوڑا تھا۔ پھر تم کیوں اس ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔ کیا تم ہم کو نادان سمجھتے ہو جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں کیا ہماری ضرورتیں نہیں؟ کیا ہم کو روپیہ کمانا نہیں سکتا؟ پھر یہاں سے ایک گھنٹہ غیر حاضری بھی کیوں موت معلوم ہوتی ہے؟ شاید اس لئے کہ میری بیماری بڑھی ہوئی ہو؟ دعاؤں سے فائدہ پہنچ جاوے تو پہنچ جاوے مگر صحبت میں نہ رہنے سے تو کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ مختلف اوقات میں آنا چاہیے۔ بعض دن ہنسی ہی میں گزر جاتا ہے اس لئے وہ شخص جو اسی دن آ کر چلا