حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 248
حقائق الفرقان ۲۴۸ سُورَةُ الْوَاقِعَةِ بد بخت ! کامل کتاب ضروریات اور حقیقی راحت بخش بات کا بیان نہ کرے تو کیا چنڈالوں کی اور کتابیں سچائی بیان کریں۔ کامل کتاب وہ نہیں ہو سکتی ۔ جس میں صرف برہم چریہ زندگی کا ہی تذکرہ ہو۔ نہ وہ جس میں صرف چند اخلاقی باتوں کا ہی تذکرہ ہو۔ نہ وہ جس میں صرف سوشل امور کا بیان ہو۔ نہ وہ جس میں صرف سیاست و انتظام کا معاملہ بیان ہو۔ نہ وہ جو صرف امور آخرت کے متعلق بحث کرے نہ وہ جس میں صرف عبادات کا ذکر ہو کامل کتاب تو وہ ہے۔ جس میں انسانی اخلاق و عادات، ہے۔جس معاملات، سیاست، تمدن، امور بعد الموت اور الہی تعظیمات کی تعلیم بوجہ اتم بیان ہو۔ یہ بھی ایک موقع اسلام پر اعتراض کا بعض احمقوں کو ملا ہے۔ مثلاً کسی نے دیکھا کہ عورتوں کے متعلق قرآن شریف میں بحث ہے، پلیٹیکل بخشیں ہیں۔ تو ایک نامرد و نامراد کسمپرس بول اٹھا کہ ان مباحث کی کتاب الہی میں کیا ضرورت ہے۔ صرف بھیجن اور توصیف النبی کے گیت کافی تھے۔ تھے۔ چند لڑکے ان کو یاد کر لیتے اور وہ ڈھولکی پر گاتے۔ اور نگر کیرتن کرتے ۔ ایک کنجوس اور غریب و مفلس بول اُٹھتا ہے کہ زکوۃ اور اعطاء صدقات کا کیوں قرآن شریف میں ارشاد ہے؟ ہمیشہ کا مفتوح ملک اور جس نے کبھی ذرہ سر اٹھایا تو منہ کے بل گرا۔ شریروں بد معاشوں سے جنگ کا تذکرہ سن کر کیا خوشی حاصل کر سکتا ہے؟ جس کو کبھی مکالمات الہیہ کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ وہ بر ہمومت کا آدمی یا عام طور کا غافل یا جس کو یقین ہے کہ الہی مکالمہ کا شرف دو ارب برس کے قریب ملہمان وید کے بعد پھر کسی کو بھی نصیب نہیں ۔ وہ انبیاء کی وحی و مکالمہ کو ڈھکوسلا نہ سمجھے تو کیا کرے؟ یا ۔ جس قوم کو باہر نکلنے کا اتفاق نہیں ہوا اور نہ ان کو ضرورتیں پیش آئیں اور وہ نہیں جانتے تھے کہ بعض جگہ گائے کا دودھ اور جو کے ستو اور ساگ نہیں مل سکتا۔ گو بیہودہ لاف زنی سے کہتے ہوں کہ ہمارے بزرگ چکرورتی راجہ تھے وہ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ - (المائدہ:1) کا سرکس طرح سمجھے؟ تجربہ کے سوا کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ غرض جامع کتاب کو سب کچھ جو انسان کے لئے ضروری البیان ہے بیان کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ لے تمہارے لئے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے۔