حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 209
حقائق الفرقان ۲۰۹ سُورَةُ قَ یہ لفظ عام بڑے بڑے رئیسوں اور امیروں پر بھی اطلاق ہوتا ہے اس لئے اس کی جمع ارباب سے امراء اور دنیا دار مراد لئے جاتے ہیں اور ٹھیک اسی طرح عبرانی زبان میں بھی جسے عربی کے ساتھ مشابہت تامہ ہے استعمال ہوا ہے چنانچہ رہی بڑے بڑے کا ہنوں اور عالموں پر بولا ہی جاتا ہے۔ اور بعض جگہ جب کسی اسم کے ساتھ ترکیب میں مذکور ہوتا ہے جیسے مثلاً اسی جگہ رب العزة يا رب البيت يا رب المنزل اُس وقت مرادف لفظ صاحب کے ہوا کرتا ہے ۔ مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں صاحب العزة ، صاحب البيت ، صاحب المنزل ، عزت والا ، گھر والا ، منزل والا یا ما لک منزل ۔ جواب ۲ ۔ اور عزت بمعنی حمیت ، ضد جاہلیت ہے۔ دیکھو قرآن میں ایک جگہ اس کا استعمال ہوا ہے۔ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمَ (البقرة : ۲۰۷ ) ۔ یعنی جب اسے خدا سے ڈرنے کو کہا جاتا ہے تو اُسے عزت ( ضد و حمیت جاہلانہ ) گناہ پر آمادہ کرتی ہے۔ پس ایسے کیلئے جہنم بس ہے۔ اور عزیز کا لفظ جو اس سے مشتق ہوا ہے۔ قرآن میں ( سورہ دخان:۵۰) شریر جہنمی پر جب جہنم میں ڈالا جائیگا بولا گیا ہے ۔ ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدخان: ۵۰) ۔ چکھ کیونکہ تو بڑی حمیت والا اور بزرگ بنا بیٹھا تھا۔ اور عزیز اور رب العزة کے معنی ایک ہی ہیں ۔ پس ربّ الْعِزَّةُ اُس شخص سے مراد ہے جو دنیا میں متکبر اور جبار اور بڑا ضدی کہلاتا ہے۔اسی حدیث کی بعض روایات میں آیا ہے حَتَّى يَضَعَ فِيهَا الْجَبَّارُ قَدَمَهُ۔ جبار اور رَبِّ الْعِزَّة کے ایک ہی معنے ہیں۔ یعنی متکبر ، سرکش ، حدود سے نکل جانے والا ۔ پس گویا دونوں روایتیں علی اختلاف الفاظ معنی واحد رکھتی ہیں۔ اب حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ دوزخ زیادہ طلبی کرتی رہے گی جب تک شریر ، متکبر اپنے تئیں عزیز جاننے والے اس میں اپنا پاؤں رکھیں یعنی داخل ہوں ۔