حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 190
حقائق الفرقان ۱۹۰ سُوْرَةُ الْفَتْحِ تھے۔ وہ سب دور ہو جائیں ۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان مشرکین نے جو تیرے گناہ اس وقت کئے تھے جبکہ تو (اے نبی ) پہلے مکہ میں رہتا تھا اور پھر وہ قصور جو اس وقت کئے جبکہ تو مکہ سے چلا آیا اس فتح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے چنانچہ جب وہ مشرکین پکڑے حضور رسالت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ۔ لا تَغْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ تم پر آج کے دن کوئی الزام نہیں ۔ اللہ تمہیں بخشے اور وہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔ ( تشحیذ الاذہان جلدے نمبر ۴۔ ماہ اپریل ۱۹۱۲ ء صفحہ ۱۸۰ تا ۱۸۲) ۲۵ - وَ هُوَ الَّذِي كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا - ترجمہ ۔ وہی اللہ ہے جس نے روک رکھے کافروں کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مکہ کے اندر بعد اس کے کہ تم ان پر فتح پا چکے تھے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو بخوبی دیکھ رہا ہے۔ تفسیر - كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۔ یہ حدیبیہ کا ذکر ہے ۔ - تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۱) رورو و بينهم ٣٠ - مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَ تَرَاهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَيةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ اخْرَجَ شَطْعَهُ فَأَزَرَةً فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزَّرَاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَ أَجْرًا عَظِيمًا - ترجمہ - محمد اللہ کا رسول ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت مؤثر ہیں ان سے متاثر نہیں ہوتے ۔ شدید و غالب ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے متاثر ہوئے ہیں رحیم ہیں۔ تو ان کو دیکھتا ہے رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، اللہ کا فضل چاہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں ان کی