حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 158
حقائق الفرقان ۱۵۸ سُورَةُ الزُّخْرُفِ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ - (الاعراف: 9) وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ - (المومن : ۴۱) کیا معنی؟ کہ جب ایک انسان بد اور نیک اعمال دونوں قسم کے عملوں کا مرتکب ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ اُس میں ایمان اور اس کے مد مقابل کے بیج بوئے گئے ہیں ۔ اس لئے میزان کی ضرورت ہوئی۔ تا کہ عدل کی صفت پوری ہو ۔ پس جس کے نیک اعمال بڑھ گے۔ عدل اور رحم اس کا شفیع ہوا اور فضل و کرم سے ایسے شخص کا بیڑا پار ہو گیا ۔ سچ ہے بھلے اور چنگے کو طبیب کی ضرورت نہیں ۔ متی و باب ۱۲ ۔ اور جس کے اعمال نیک اور بد ملے جلے ہیں تو اس کیلئے بھی رحم اور کرم کا پلہ امید ہے کہ فضل سے ( فصل الخطاب المقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۸۹ تا ۲۹۴) بھاری ہو جاوے۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر شفیع کی ضرورت ہے تو اس کے شرائط اور وجہ خصوصیت کیا ہے؟“ جواب:۔ د شفیع کے شرائط وہی جانے جسے شفیع بنانا ہو۔ یعنی خدا جس کے رحم اور کرم اور فضل نے شفیع بنایا ہو۔ الا جہاں جہاں شفاعت کا ثبوت ہے۔ وہاں وہاں قرآن نے وہ شرائط بتلا دیتے ہیں۔ غور کرو۔ انبیاء اور ملائکہ کی شفاعت اُسی کے رحم اور فضل سے ہے۔ اور اس کے اذن اور اجازت سے دیکھو۔ بَلْ عِبَادُ مُكْرَمُونَ - لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ (الانبياء : ۲۸،۲۷) وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى - (الانبياء: ۲۹) وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ - (الزخرف:۸۷) ه۔ لے سوجن کی تو لیں بھاری پڑیں سو وہی ہیں جن کا بھلا ہوا۔ ہے اور جس نے کی ہے بھلائی وہ مرد ہو یا عورت اور وہ یقین رکھتا ہو سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں ۔ روزی به میں ۔ روزی پائیں گے وہاں بے شمار ۔ سے لیکن وہ بندے ہیں جن کو عزت دی ہے۔ اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے ۔ اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ ہے اور سفارش نہیں کرتے مگر اس کی جس سے وہ راضی ہو۔ ہے اور اختیار نہیں رکھتے جن کو یہ پکارتے ہیں سفارش کا ۔ مگر جس نے گواہی دی سچی اور ان کو خبر تھی ۔