حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 148
حقائق الفرقان الد ٧ سُورَةُ الزُّخْرُفِ نہیں ہو سکتی پھر اس کا بھی وَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ سے فیصلہ ہو گیا کہ عیسی علیہ السلام عِلْمُ السَّاعَةِ اور وہ عِلْمُ السَّاعَةِ خدا کے پاس ہے ۔ اور تم بھی اے مخاطبو! اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ تُرْجَعُونَ اور اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سے ظاہر ہے کہ اللہ کے پاس زندہ بجسد العنصری موجود نہیں بلکہ جس طرح اور ابرار مر کر جاتے ہیں ۔ اُسی طرح وہ بھی چلا گیا۔ ( تشحیذ الاذہان جلدے نمبر ۳۔ ماہ مارچ ۱۹۱۲ ء صفحه ۱۳۴) اس سوال کے جواب میں کہ ابنِ مریم قیامت کی نشانی ہیں یا علامت اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور قریب قیامت آویں گئے فرمایا۔ اول یہاں لفظ علم کا بہ عین مکسور ہے ۔ جس کے معنے یہ لوگ علامت یا نشانی کہتے ہیں حالانکہ وہ لفظ جس کے معنے علامت یا نشانی ہے۔ حکم یہ عین مفتوح ہے سو اول تو ان کی خاطر لغت کو محرف مبدل کیا جاوے تو ان کے معنے تسلیم کئے جاویں۔ دوم یہاں لفظ ساعت کا ہے جس کے معنے قیامت کے کئے جاتے ہیں حالانکہ یہ لفظ عذاب اور گھڑی یعنی وقت کے معنوں پر آتا ہے اور قیامت صغری یعنی ایک قوم کی موت یا تباہی پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ کوئی خصوصیت اسے قیامت کبری سے نہیں اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ ان کی ضمیر ابن مریم کی طرف ہے۔ تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ ابنِ مریم کے ذریعہ اس عذاب کی گھڑی کا علم حاصل ہوتا ہے جو کہ یہودیوں پر آنا ہے۔ چنانچہ ابن مریم کے بعد یہودی طیطوس رومی کے ہاتھوں سخت تباہ و برباد ہوئے ۔ سوم یہاں ابنِ مریم کو ساعت کا علم کہا گیا ہے اور اسی سورت کے اگلے رکوع ۱۳ میں لکھا ہے۔ وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۔ یعنی ساعت کا علم خدا کے پاس ہے اور تم نے اسی کے پاس جانا ہے۔ تو جب ساعت کا علم خدا کے پاس ہوا تو جو شئے ساعت کا علم ہو گی وہ خدا کے پاس ہو گی۔ پس اگر ابن مریم ساعت کا علم ہے تو اسے خدا کے پاس ہونا چاہیے مگر کس طرح جیسے کہ ہم نے بھی خدا کے پاس ہونا ہے اسی طرح دیکھو یہاں بھی لفظ تُرْجَعُون کا ہے اور ہماری نسبت بھی ہے انا للہ وانا